چیئرمین سینیٹ کا صحافی کے خلاف کارروائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اظہار رائے کی آزادی یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگوں اور اداروں کے بارے میں توہین آمیز الفاظ ادا کیے جائیں: سینیٹ چیئرمین

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے ممبران پارلیمنٹ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہنے پر انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کے ایڈیٹر سلیم بخاری کے خلاف کارروائی سے متعلق رولنگ دی ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس صحافی کے خلاف کارروائی کرے۔

سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے یہ رولنگ ایوان میں موجود ارکان کی طرف سے مذکورہ صحافی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف نازیبا الفاظ کہنے کے خلاف تقاریر کے بعد دی۔

واضح رہے کہ سلیم بخاری نے 27 اکتوبر کو نجی ٹی وی چینل آے آر وائی کے پروگرام میں پارلیمنٹیرین کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ آئین ا ور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ بعد ازاں پروگرام کے میزبان کے کہنے پر سلیم بخاری نے اپنے الفاظ واپس لے لیے تھے۔

سینیٹ کے چیئرمین نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئین اظہارِ رائے کی اجازت ضرور دیتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس آزادی کا غلط استعمال کیا جائے اور لوگوں اور اداروں کے بارے میں توہین آمیز الفاظ ادا کیے جائیں۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ عوام اور اداروں کے حقوق کے تحفظ کا ادارہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ میڈیا کو خود اپنے آپ پر چیک رکھنا چاہیے اور ایسے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے جس میں کسی کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ مذکورہ صحافی نے پارلیمنٹ کی بطور ادارہ توہین کی ہے جسے کسی طور پر بھی نطر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اور حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھی اس پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کو ٹی وی چینلز اور کالموں میں جگہ نہیں دی جانی چاہیے۔

رضا ربانی نے سینیٹ کے سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس بارے میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین کو خط لکھیں اور اس بارے میں چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کو بھی شامل کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت سلیم بخاری کے خلاف قانون اور رولز کے مطابق کارروائی کرے اور اس بارے میں ایوان کو بھی آگاہ کیا جائے۔

اسی بارے میں