ایاز صادق سمیت چار نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

Image caption ایاز صادق جب حلف اُٹھانے کے لیے قومی اسمبلی کے ہال میں پہنچے تو انھیں دیگر نومنختب اراکین سے زیادہ پرٹوکول دیا گیا

قومی اسمبلی کے سابق سپیکر ایاز صادق اور تین نو منتخب اراکین نے جمعے کے روز قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اُٹھا لیا ہے جبکہ نئے سپیکر کے انتخاب کے لیے نو نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے قائم مقام سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے نومنتخب ارکان سے حلف لیا۔

حلف اُٹھانے والوں میں ایاز صادق کے علاوہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ سےریاض الحق جج اور صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور سے بابر نواز ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان میں شامل ہیں، جبکہ شازیہ سومرو خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئی ہیں۔

ایاز صادق جب حلف اُٹھانے کے لیے قومی اسمبلی کے ہال میں پہنچے تو انھیں دیگر نومنختب اراکین سے زیادہ پرٹوکول دیا گیا اور ایوان میں موجود حزب مخالف اور حزب اقتدار کے اراکین نے ڈیسک بجا کر ایاز صادق کا استقبال کیا۔

حکمراں جماعت نے ابھی تک سپیکر کے انتخاب کے لیے کسی اُمیدوار کا اعلان نہیں کیا تاہم اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ ایاز صادق ہی حکمراں اتحاد کے متفقہ اُمیدوار ہوں گے۔

یاد رہے کہ الیکشن ٹریبیونل نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 122 میں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔

ایاز صادق نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا تھا اور 11 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار کو شکست دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 122 میں دوبارہ انتخابات کروائے گئے تھے

حلف اٹھانے کے بعد قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کی قیادت کو الزامات کی سیاست کو ترک کرتے ہوئے ملکی ترقی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

اُنھوں نے اپنی تقریر میں پاکستان تحریک انصاف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس جماعت نے اُن کے خلاف ضمنی انتخابات میں حصہ ضرور لیا لیکن اس جماعت کے لیڈروں نے اُن (ایاز صادق) کی جیت کے لیے فون کر کے اپنی خواہشات کا اظہار کیا۔

حزب مخالف کی جماعت، جماعت اسلامی کے بارے میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اس جماعت نے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار کی حمایت کی لیکن جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی روحیں ایاز صادق کے ساتھ تھیں۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت ایاز صادق کے مقابلے میں کوئی اُمیدوار نہیں لائے گی تاہم اگر حکومت نے کسی دوسرے اُمیدوار کا اعلان کیا تو اُن کی جماعت بھی سپیکر کے انتخاب کے لیے کوئی اُمیدوار سامنے لا سکتی ہے۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے کے لیے شفقت محمود کو اپنا اُمیدوار نامزد کیا ہے۔

اسی بارے میں