کیا ہم افغانستان یا ہندوستان سے آئے ہیں؟

Image caption زیادہ تر افراد نے اس بات کی شکایت کی کہ وہ گھر کا معاوضہ حاصل کرنے کےلیے تین تین بار ضلعی انتظامیہ کے پاس درخواستیں جمع کراچکے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں حالیہ بارشوں اور پہاڑوں پر برف باری کے باعث زلزلہ زدہ افراد کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور بیشتر متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ امداد کی تقسیم سیاسی بنیادوں کی جارہی ہے۔

مکانات کی تعمیرِ نو میں پھر سے غلطی

زلزلہ، سردی اور بغیر چھت کے سکول

دیر بالا کے صدر مقام دیر خاص میں واقع ضلعی دفاتر کے احاطے اور باہر سڑک کے آس پاس درجنوں زلزلہ متاثرین جمع ہیں۔ ہر متاثرہ شخص نے ہاتھ میں ایک عدد سادہ سفید کاغذ پر لکھائی ہوئی درخواست اور تباہ شدہ مکانات کے تصاویر اٹھا رکھی ہیں۔

ہر کوئی ایک ہی بات کا رونا روتا ہے ’یہ میرے گھر کی تصویریں ہیں صاحب یہ دیکھ لیں، میرا گھر مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے لیکن ہمیں اب تک کوئی امداد نہیں پہنچی ہے۔‘

ہر متاثرہ فرد کے پاس اپنی بربادی کی ایک الگ کہانی بھی ہے اور ہر کوئی اس بات پر زور بھی دیتا ہے کہ کوئی اسکی کہانی سنے اور اس کے ہاتھ کچھ لگ جائے۔

Image caption ضلعی انتظامیہ کے دفتر کے باہر موجود متاثرین

زیادہ تر افراد نے اس بات کی شکایت کی کہ وہ گھر کا معاوضہ حاصل کرنے کےلیے تین تین بار ضلعی انتظامیہ کے پاس درخواستیں جمع کراچکے ہیں لیکن جب وہ درخواست کے بارے افسران سے دریافت کرتے ہیں تو انھیں بتایا جاتا ہے کہ ان کی درخواست انھیں نہیں ملی ہے۔

ہر کوئی یہ بات بھی تسلیم کرتا ہے کہ دیر بالا میں امداد بڑی مقدار میں آرہی ہے لیکن ان افراد کو مل رہی ہے جنکی کوئی سیاسی وابستگی ہے۔

محلہ شاؤ کے ایک طالب علم توصیف خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گذشتہ روز براوال کے علاقے میں امداد تقسیم کی گئی اور متاثرین کو چیک بھی ملے ہیں کیونکہ وہاں کے ایم پی اے عنایت اللہ صوبائی وزیر ہے اور انھوں نے اپنے حلقے میں خود امداد تقسیم کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں یا افسران سے تعلقات نہیں ہے وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔

محلہ شاؤ کے ایک اور باشندے فضل ربی کے مکان کو زلزلے کی وجہ سے جزوی نقصان ہوا تھا لیکن حالیہ بارشوں کے باعث ان کا بچا کچا گھر مکمل طورپر تباہ ہوا ہے جو اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ فضل ربی اور اس کے خاندان نے قریبی پرائمری سکول میں پناہ لے رکھی ہے جہاں ان کے بچے شدید سرد اور برفیلی ہواؤں کی وجہ سے کھانسی اور سینے کی بیماروں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

دیر بالا میں تقریباً 15 سرکاری سکولوں میں درجنوں خاندان پناہ گزین موجود ہیں۔ علاقے میں تمام سکول تو کھل گئے ہیں لیکن جن سکولوں میں متاثرین مقیم ہیں وہاں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ تاحال رکا ہوا ہے۔

فضل ربی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے انھیں نوٹس دیا گیا ہے کہ وہ فوری طورپر سکول خالی کردیں اور اپنے لیے کوئی اور انتظام کریں۔

Image caption سکولوں اور دیگر عارضی پناہ گاہوں میں مقیم بچوں کے سردی سے متاثر ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

ان کے بقول ’ہم کدھر جائیں بچوں اور خواتین کو کہاں لے جائیں۔ گھر تو ہمارے تباہ ہوچکے ہیں، اب حکومت ہمیں کوئی متبادل طریقہ بتائے تاکہ ہم اس پر عمل کرلیں۔‘

اوہ کہتے ہیں ’ ہمارے ساتھ ایسا سلوک ہورہا ہے جیسے ہم اس ملک کے شہری نہ ہوں بلکہ ہم افغانستان یا ہندوستان سے آئے ہوں۔‘

دیر بالا میں آجکل شدید سردی پڑرہی ہے اور رات کو درجہ حرارت نقط انجماد سے تین درجے نیچے چلا جاتا ہے۔ یہاں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے تک علاقے میں برف باری شروع ہوجائےگی جس سے خدشہ ہے کہ زلزلہ زدگان کے مسائل دگنے ہو جائیں گے۔ متاثرین کے پاس سر چھپانے کے عارضی پناہ گاہیں تو ہیں لیکن سردی اور برف باری سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہیں جس سے سکولوں اور دیگر عارضی پناہ گاہوں میں مقیم بچوں کے سردی سے متاثر ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

دیر کے مقامی صحافی محمد عمران کا کہنا ہے کہ دیگر اضلاع کے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے لیکن دیر میں ابھی پہلہ مرحلہ بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ ان کے بقول امداد کی تقسیم ذاتی پسند ناپسند، سیاسی وابستگی اور اثر رسوخ کی بنیاد پر کی جارہی ہے اور بیشتر غریب اور سفید پوش متاثرین فاقوں کا شکار نظر آتے ہیں۔

Image caption ہر متاثرہ شخص نے ہاتھ میں ایک عدد سادہ سفید کاغذ پر لکھائی ہوئی درخواست اور تباہ شدہ مکانات کے تصاویر اٹھا رکھی ہیں

تاہم دوسری طرف دیر بالا کے اسسٹنٹ کمشنر اور آپریشنل انچارج آصف علی کا کہنا ہے کہ امداد کی تقسیم انفرادی سطح پر نہیں بلکہ علاقے کے سروے اور نقصان کا تخمینہ لگانے کے بعد کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دیر میں اب تک تین ہزار خمیے، پانچ ہزار کمبل اور دو ہزار فوڈ پیکیج تقسیم کیے جاچکے ہیں لیکن چونکہ نقصان زیادہ ہوا ہے اور بارشوں نے اس میں مزید اضافہ کیا ہے لہذا مزید امداد کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سرکاری افسر نے کہا کہ امداد کی تقسیم میں بدعنوانیوں کے خاتمے کےلیے تین سرکاری ادارے اس کام پر مامور ہیں جس میں ضلعی انتظامیہ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور فوج شامل ہے اور ان اداراوں کی موجودگی میں کرپشن کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔

صوبے کے ان علاقوں میں جہاں سردی کی شدید زیادہ ہے وہاں اگر متاثرین کو فوری طورپر سردی سے بچانے کےلیے انتظامات نہیں کیے گئے تو ایک قدرتی آفت تو زلزلے کی شکل میں ُآچکی ہے جبکہ دوسری قدرتی آفت سردی ثابت ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں