ملاکنڈ طلبہ کی کھوٹی قسمت ؟

Image caption زلزلے کے باعث ملاکنڈ ڈویژن کے دو اضلاع دیر پائین اور دیر بالا میں سینکڑوں سکولوں کو وسیع پمیانے پر نقصان ہوا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں جب بھی کوئی بڑی قدرتی آفت آتی ہے یا جس طرح شدت پسندی نے وہاں جنم لیا تو اس کے سب سے زیادہ برے اثرات تعلیمی ادارے پر پڑے۔

ملاکنڈ ڈویژن میں آنے والے حالیہ زلزلے کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ڈویژن کے سات اضلاع میں ہوا جن میں چترال، دیر پائین، دیر بالا، سوات، شانگلہ، بونیر اور ملاکنڈ ایجنسی شامل ہیں جہاں سرکاری تعلیمی ادارے بھی اس قدرتی آفت کے وسیع اثرات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

کیا ہم افغانستان یا ہندوستان سے آئے ہیں؟

زلزلے کے باعث ملاکنڈ ڈویژن کے دو اضلاع دیر پائین اور دیر بالا میں سینکڑوں سکولوں کو وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے جس سے اب ہزاروں طلبہ کا تعلیمی سلسلہ بری طرح متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

دیر بالا کے ضلعی ایجوکیشن افسر معین الدین خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ دیر بالا میں تقریباً تین سو سرکاری سکولوں کو زلزلے کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے جن میں 50 کے قریب سکول مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ دیگر تعلیمی اداروں کو جزوی طورپر نقصان ہوا ہے۔

Image caption زلزلے کے باعص اس کلاس روم کی دیواروں میں دراریں آگئی ہے

انھوں نے کہا کہ مکمل طور پر تباہ ہونے والے سکولوں میں تاحال تعلیمی سلسلہ معطل ہے جہاں بچوں کے مزید وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کےلیے متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

دیر بالا میں تقریناً 15 کے قریب ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جنھیں کوئی نقصان تو نہیں پہنچا ہے لیکن وہ سکول بھی بند پڑے ہیں کیونکہ وہاں زلزلہ متاثرین نے پناہ لے رکھی ہے۔

بظاہر لگتا ہے کہ یہ متاثرین اس وقت تک سکول خالی نہیں کریں گے جب تک ان کے گھر دوبارہ بحال نہیں ہوتے۔

دیر بالا اور دیر پائین میں تباہ ہونے والے اکثریتی سکول پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں میں واقع ہیں جہاں پہلے ہی شرح خواندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔

ان سکولوں کی تباہی کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کا تعلیمی سلسلہ رک گیا ہے۔

صوبائی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے سکولوں کی عارضی بحالی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے گا لیکن دو ہفتے گزرنے کے باوجود بھی متاثرہ علاقوں میں نہ تو سکولوں کو خیمے مہیا کیےگئے اور نہ سکولوں کو کرائے کے عمارات میں منتقل کرنے کے لیے کوئی انتظامات نظر آتے ہیں۔

ایجوکیشن افسر معین الدین خٹک کے مطابق انھیں بتایا گیا ہے کہ عالمی ادارے یونیسف کے تعاون سے بہت جلد تباہ ہونے والے سکولوں کو خیمے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہاں سکولوں کو بحال کیا جا سکے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ دو ہفتے گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک دیر بلا میں سکولوں کو خیمے فراہم نہیں کیے جا سکیں ہیں۔

صوبائی حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ جن بچوں کے سکول تباہ ہو چکے ہیں انھیں دیگر قریبی سکولوں میں داخل کر دیا جائے گا لیکن دوسری طرف زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔

Image caption ان سکولوں کی تباہی کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کا تعلیمی سلسلہ رک گیا ہے

دیر بالا اور دیر پائین میں زیادہ تر والدین نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ جب سے ان کے بچوں کے سکول زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں اس کے بعد سے وہ سکول نہیں جا رہے اور ان کےلیے کوئی متبادل انتظام بھی نہیں کیا گیا ہے۔

ملاکنڈ ڈویژن میں گذشتہ تقریناً سات سالوں کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے کہ سکولوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

اس سے پہلے سنہ 2007 اور 2008 میں جب ملاکنڈ ڈویژن میں شدت پسندی نے جنم لیا تو عسکریت پسندوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر تعلیمی اداروں کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

وادی سوات اور دیگر اضلاع میں شدت پسندوں کے حملوں میں تقریباً سات سو کے قریب سرکاری سکول تباہ کیے گئے تھے۔

تاہم سنہ 2009 میں طالبان کے خاتمے کے بعد ملاکنڈ میں سکولوں کی بحالی کا دوبارہ آغاز ہوا اور ابھی ایک ہی برس ہی گزرا تھا کہ ملک کی تاریخ کے تباہ کن سیلاب نے ملاکنڈ ڈویژن میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی جس سے ایک مرتبہ پھر سینکڑوں تعلیمی ادارے تباہ ہوئے۔

تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سکولوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ ان طلبہ کے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچایا جائے جو دیر بالا اور دیر پائین کے گلی کوچوں میں کھیلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

اسی بارے میں