’نیپ کا ہندوستان سے تعلق فطری تھا‘

جمعہ خان صوفی کی کتاب ’فریبِ ناتمام‘ کہانی ہے تو ایک شخص کی لیکن بیان بہت کچھ کرتی ہے اور ان سوچوں، منصوبوں اور ارادوں سے پردہ اٹھاتی ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بقول مصنف کے دائمی تلخیوں اور اختلافات کی وجہ بنتے چلے آ رہے ہیں۔ اس قسط میں جمعہ خان نے بھارت اور نیپ کے درمیان تعلقات پر بات کی ہے۔

Image caption 1987 میں بھارتی حکومت نے باچا خان کو بھارت رتنا اعزاز سے نوازا جسے اُن کے بیٹے ولی خان نے وصول کیا

’نیپ کا ہندوستان سے تعلق فطری تھا۔ ہندوستان ایک سیکیولر ملک ہے اور نیپ ایک سیکیولر جمہوری پارٹی تھی۔ نیپ غیر جانبدار اور غیر منسلک خارجی سیاست کی حامی تھی اور ہندوستان تسلیم شدہ غیر جانبدار ملک تھا اور ہے۔ نیپ امریکہ اور مغرب کے ساتھ تمام معاہدوں کے خلاف تھی اور ہندوستان بھی آزاد اورخود مختار سیاست پر کاربند تھا۔

نیپ تمام ترقی پسند اور سامراج دشمن ملکوں کے ساتھ دوستی کی قائل تھی اور ہندوستان اسی اصول پر عمل کر رہا تھا۔ نیپ تمام پڑوسی ممالک بالخصوص ہندوستان سے دوستانہ تعلقات رکھنے پر زور دیتی تھی۔

پڑھیے پہلا حصہ: ایک ناکام قوم پرست کا اقبالیہ بیان

پڑھیے دوسرا حصہ: پاکستان اور افغانستان میں شدت پسندی کا ذمہ دار کون؟

پڑھیے تیسرا حصہ: حیات شیرپاؤ، نیپ اور حیدر آباد ٹریبیونل

ان سب کے علاوہ نیشنل عوامی پارٹی باچا خان یعنی سرحدی گاندھی کے بیٹے عبدالولی خان کی قیادت میں سرگرم تھی۔ پختونوں میں یہ پارٹی ایک لحاظ سے انڈین نیشنل کانگریس کا تسلسل تھی۔ باچا خان اور ولی خان کا ہندوستان کی تمام حکومتوں سے اور بالخصوص کانگریسی حکومتوں سے ذاتی اور گھریلو تعلقات تھے اور ہیں۔ ان کے درمیان ہمیشہ سے لین دین کی روایت نہ پہلے کوئی پوشیدہ بات تھی اور نہ اب ہے۔

تو ہم جو ہندوستان کے دوست تھے، اپنے مشترکہ دشمن پاکستان کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے اور مشترکہ دوست افغانستان میں بیٹھے سرگرم تھے۔ اس لیے افغانستان کے بعد سب سے پہلے مدد کے لیے اپنا ہاتھ بغیر چھپائے ہندوستان کی طرف بڑھایا تھا اور ہندوستان نے بھی ہمیشہ کی طرح اپنے بازو ہمیں سمیٹنے کے لیے پھیلائے تھے۔

بڑے پیمانے کا لین دین اور مالی آمد و رفت اجمل خٹک کے ذریعے ہوتی تھی اور میں نے اس کی ٹوہ لینے کی کبھی کوشش نہیں کی کیونکہ ’چیزے را کہ عیان است چہ حاجت بہ بیان است‘ (جو چیز صاف ظاہر ہے اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے)۔ البتہ ہمارے ساتھ ہمارے گھر کے خرچ کے لیے 13 ہزار افغانی کی مدد کی جاتی تھی۔ ہمارے ساتھ ٹائپ، سائیکلوسٹائل، طباعت اور ڈاک کی مد میں بھی ماہانہ مدد کی جاتی تھی۔

ہمارے ساتھ سیاسی تبادلہ خیال کیا جاتا اور سوال جواب کے سلسلے میں مدد کرتے۔ اُس وقت بھارتی جاسوسی تنظیم ’را‘ کے نام سے تو کوئی واقف نہ تھا لیکن اُن مخصوص نمائندوں سے جو ہندوستان کے سفارت خانے میں بطور سفارتی اہلکار کام کیا کرتے تھے، ہمارا رابطہ رہتا تھا۔

Image caption ’تو ہم جو ہندوستان کے دوست تھے، اپنے مشترکہ دشمن پاکستان کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے اور مشترکہ دوست افغانستان میں بیٹھے سرگرم تھے‘

پہلے سفارت کار کا نام ایس ایل بھگا، تھا جب اُس کا تبادلہ ٹرینیڈاڈ ہوگیا تو اس کی جگہ ملہوترا آیا جو مشہور صحافی اندر ملہوترا کا بھائی تھا۔ اس کے بعد ایک اور آیا تھا جس کا نام میں بھول رہا ہوں۔ پھر ثور انقلاب اور روسیوں کی آمد کے بعد یہ سلسلہ بکھر گیا۔ اگرچہ میرے ساتھ ہندوستانیوں کے تعلقات آخر دم تک رہے، لیکن ہمیشہ سفیر کی حد تک۔ البتہ اجمل خٹک سے پرانا لین دین کا رابطہ بحال رہا۔

اجمل خٹک ان حالات کی وجہ سے بھارتی سفیر سے ملنے کے لیے ان کے گھر جاتے اور ان سے اپنی معلومات اور خدشات پر تبادلہ خیالات کرتے۔ بھارت وہ ملک تھا جو اس طرح کے راز اور خفیہ معلومات میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔

جس وقت باچا خان آخری مرتبہ ہندوستان میں بیمار پڑے اور کوما میں چلے گئے تو افغانستان میں صدر نجیب کی حکومت تھی۔ غالباً 1987 تھا۔ اُس موقعے پر ہم بہت اعلیٰ افغان عہدیداروں پر مشتمل وفد کے ساتھ دہلی گئے۔ اُس وقت وہاں جی ایم سید بھی آئے ہوئے تھے۔ موصوف نے ہم سے کہا کہ بھارتی حکومت سے اُن کی سفارش کریں کہ اُن کی بات مان لیں۔ وہ مطالبات کیا تھے، یاد نہیں رہا، مگر سید صاحب چاہتے تھے کہ اجمل خٹک ان کی سفارش کریں۔

ہندوستان اور ہندوستانی سفارت خانے سے ہمارا تعلق تھا جو فطری طور پر ان کے بھی کام آیا۔ جی ایم سید کی انگریزی کتاب ’سندھو دیش زنجیروں میں‘ (Sindhudesh In Chains) ہمارے ہی توسط سے بھارت میں شائع ہوئی۔ اگرچہ کتاب میں کتابت کی بہت سی غلطیاں رہ گئیں لیکن اس کا شائع ہونا ہی بہت تھا کہ اس وقت پاکستان کے اندر ایسی کتاب کا شائع ہونا ناممکن تھا۔

اس کتاب کو ہم نے خفیہ طریقوں سے اور قسطوں میں بھجوایا۔ جی ایم سید نے بعد میں کتاب میں غلطیوں کی تصحیح کی اور دوبارہ اشاعت کے لیے بھیجی لیکن اس کی دوبارہ اشاعت ممکن نہ ہو سکی۔

ایک مرتبہ سید صاحب کے نائب قاضی فیض محمد جو پہلے عوامی لیگ میں رہے تھے کابل آئے۔ وہاں سے بھارت بھجوائے گئے اور واپسی کے لیے بھی اُس نے کابل کا راستہ اختیار کیا۔ یہ پوری طرح یاد نہیں کہ اس سفر کے لیے اس نے کس پاسپورٹ کا سہارا لیا تھا۔

1987 میں بھارتی حکومت نے باچا خان کو ’بھارت رتنا‘ اعزاز سے نوازا جسے اُن کے بیٹے ولی خان نے وصول کیا۔ اُس وقت باچا خان کوما میں جا چکے تھے۔ یہ بھارت کا سب سے بڑا ریاستی اعزاز ہے۔ اس کے ساتھ کے پیسے تھے، اگر تھے تو، کہاں گئے ؟ اس کا بھی کچھ حساب سامنے نہ آ سکا۔‘

اسی بارے میں