’نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ملک کے تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے : حکومتی ترجمان

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ملک کے تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کے لیے تمام ادراوں کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

اسلام آباد میں حکومتِ پاکستان کے ترجمان کی جانب بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت عوامی کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سمیت دیگر اقدامات جاری رکھے گی۔

آپریشن کے بھرپور نتائج کے لیےگورننس بہتر کی جائے: آرمی چیف

دو شریفوں میں گڑبڑ ہوئی تو سویلین شریف کے ساتھ: اچکزئی

حکومت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب منگل کو روالپنڈی میں کور کمانڈر کانفرنس میں فوج کے سربراہ راحیل شریف نے کہا تھا کہ طویل مدت میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے نتائج حاصل کرنے کے لیے حکومت کو انتظامی امور اور طرز حکمرانی کو بہتر کرنا ہو گا۔

آرمی چیف کے بیان کے بعد حکومتی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ دو برسوں سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ حکومت نے کیا تھا جیسے عوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔

حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نیشنل ایکش پلان پر کامیابی سے عمل درآمد حکومتی کوشیشوں سے سیاسی اتفاق رائے، مسلح افواج کی بہادرانہ اقدامات اور صوبائی حکومتوں، پولیس اور انیٹلیجنس ایجنسیوں کی کارروائیوں سے ممکن ہوا ہے۔‘

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اعلیٰ عدلیہ اور خاص کر عوام نے بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔حکومت نے تمام فیصلے قومی مفاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شفاف انداز میں کیے ہیں اورحکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔ ‘

یاد رہے کہ جنرل راحیل شریف نے کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سمیت دوسرے آپریشنز میں ممکنہ رکاوٹوں، فاٹا اصلاحات اور تمام جاری مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کے کام کو ترجیحی بنیادوں پر منطقی انجام تک پہنچانے کی ضروت ہے۔

پاکستان کی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی اقدامات سے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور حکومتی پالیسیوں میں گورننس پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں