اقتصادی راہداری منصوبے میں دیامیر بھاشا ڈیم شامل کرنے کی تجویز

Image caption گذشتہ روز گوادر میں 650 ایکڑ زمین چینی کمپنیز کو ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کے دے دی گئی ہے: احسن اقبال

پاکستان کے وفاقی وزیر برائےمنصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے میں دیامیر بھاشا ڈیم کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔

کراچی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی مشترکہ رابطہ کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں احسن اقبال نے کہا کہ کراچی میں اجلاس منعقد کرنے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ کراچی اب پرامن شہر ہے اور بیرونی سرمایہ کار یہاں اطمینان کے ساتھ اپنا کاروبار کرسکتے ہیں۔

’اقتصادی راہداری کے مخالفین کی مہم سے آگاہ ہیں‘

’اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ پہلے تعمیر کیا جائے گا‘

وفاقی وزیر کے مطابق ماحولیاتی تغیر کی وجہ سے اب بارش کا موسم بھی تبدیل ہورہا ہے اور اگر فوری توجہ نہیں دی گئی تو پاکستان میں پانی اور خوراک کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس لیے پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر بہت ضروری ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک ارب ڈالر کی رقم دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین خریدنے کے لیے مختص کی گئی ہے جو آئندہ سال تک وہاں رہنے والوں کو ادا کردی جائےگی جس کے بات ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوجائے گا۔

احسن اقبال نے بتایا کہ گذشتہ روز گوادر میں 650 ایکڑ زمین چینی کمپنیز کو ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کے دے دی گئی ہے جس میں گوادر کی بندر گاہ کی توسیع بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں خنجراب میں پاکستان اور چین کی سرحد سے لے کر بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ تک سڑکوں اور ریل کے رابطوں کی تعمیر کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سمیت متعدد منصوبے شامل ہیں

یادرہے کہ حکومتِ بلوچستان نے گوادر کی بندرگاہ کے قریب 2200 ایکڑ رقبہ صنعتی زون کے لیے مختص کرکے چینی کمپنی کو دینے کہ منظوری دی تھی۔

احسن اقبال کے مطابق پاکستان میں ریلوے ٹریک بہت خستہ ہوچکے ہیں اور کئی مقامات پر ٹرین کی رفتار صرف 60 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت آئندہ پانچ سالوں میں پانچ ارب ڈالرز کی لاگت سے ریلوے ٹریک کو کراچی سے پشاور تک اپ گریڈ کیاجائےگا۔

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت نے چین کو 25 صنعتی زونز بنانے کی تجویز دی ہے جس میں سے 7 پنجاب ، 8 خیبرپختون خواہ ، 4 سندھ جبکہ باقی گلگت بلتستان اور بلوچستان میں تعمیر کیے جائیں گے۔

احسن اقبال کے مطابق چین میں پیداواری لاگت بڑھنے کی وجہ سے اب کئی صنعتیں پاکستان منتقل کرنے یا مشترکہ پیداواری منصوبے بنانے پر غورکیاجارہا ہے جن میں سیمنٹ ، آٹو موبائل ، لائٹ انجیئرنگ وغیرہ شامل ہیں۔تاہم ان کے مطابق اس سے پہلے پاکستان میں توانائی کے بحران کا خاتمہ ضروری ہے۔

اسی بارے میں