تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں:سینیٹ میں پکار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ارکان پر زور دیا ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور آئین کا تحفظ ہر شہری اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔

ایوان بالا میں نکات اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹروں نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ حکومت کی کارکردگی پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں لیکن حزب اختلاف کے دوسرے ارکان کی طرح مشکل وقت میں ہمیشہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

انھوں نے ایک بار پھر حکومت کو تجویز دی کہ وہ خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان سے متعلق امور پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا بند کمرے میں مشترکہ اجلاس یا سینیٹ کا اجلاس بلائے۔

یاد رہے کہ منگل کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈروں کے اجلاس کے بعد آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے جاری آپریشن کے نتائج حاصل کرنے اور ملک میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ حکومت انتظامی امور کو بہتر کرے۔

اس بیان کے اگلے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر کانفرنس کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جو بیان جاری کیا گیا ہے وہ آئین کی روح کے منافی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بیان کے بارے میں سپریم کورٹ سے تشریح کروائی جائے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے بعد بدھ کی شام کو ایک بیان میں حکومت پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ملک کے تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کے لیے تمام اداروں کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

اسلام آباد میں حکومتِ پاکستان کے ترجمان کی جانب بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت عوامی کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سمیت دیگر اقدامات جاری رکھے گی۔

اسی بارے میں