’پاکستان سے ڈالر بھارت بھیجے گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption سٹیٹ بنک کی ہدایت کے مطابق اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی

ترسیلات زر کا ذکر کریں تو ذہن میں دنیا بھر خصوصا مغربی ممالک سے پاکستانی اپنے اہل خانہ کو بھیجی گئی رقوم کا ذکر ذہن میں آتا ہے لیکن گذشتہ ایک سال میں پاکستان سے بھارت بھی ڈالر میں رقم پہلی مرتبہ بھیجی گئی ہے۔

پارلیمان کے ایوان بالا کو آج بتایا گیا کہ سال 15-2014 میں پاکستان سے ایک شخص نے مجموعی طور پر 81500 ڈالر بھارت بھی بھیجے ہیں۔

تاہم ملکی قانون کے تحت اور سٹیٹ بنک کی ہدایت کے مطابق اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

سینٹر سید غنی نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ایک سوال میں گذشتہ پانچ برسوں میں پاکستان سے بھارت ترسیلات زر کی تفصیل مانگی تھی۔ ایوان کو مہیا کی گئی سال بہ سال تفصیل کے مطابق سنہ 2010 سے کوئی رقم بھارت نہیں بھیجی گئی ماسوائے گذشتہ برس کے جس میں 81500 ڈالر بھارت بھیجے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ سرکاری اعداد و شمار حقیقت بیان نہیں کرتے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان رقوم کی غیرقانونی طریقوں سے بھی ترسیل ہوتی ہے۔ البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا حجم کتنا ہے۔

ادھر وزیر خزانہ نے ایوان کو یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان پر قرضوں میں مد میں فروری 2013سے لے کر اگست 2015 تک 4560 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

ایوان کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ملک میں اس وقت مجموعی طور پر 36 بینک کام کر رہے ہیں جن کی ملک بھر میں ساڑھے 12 ہزار سے زائد شاخیں ہیں۔ بینک کھولنے کی شرائط میں ہے کہ اس کی 20 فیصد شاخیں دیہی جبکہ باقی شہری علاقوں میں لازمی ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں