’حقوق نہ دیے تو کوئی بھی قدم اُٹھانے سے دریغ نہیں کریں گے‘

Image caption ڈاکٹر توصیف نے کہا کہ جن علاقوں میں فرد واحد کا ہر حکم قانون کا درجہ رکھتا ہو، وہاں پر کیسے انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر اُن کو حقوق نہ دیے گئے تو وہ کوئی بھی قدم اُٹھانے سے دریغ نہیں کریں گے۔

ان علاقوں کے مکینوں کا کہنا تھا کہ اُن پر ملک کی آزادی سے پہلے انگریزوں کا قانون رائج ہے جس کو اب وہ کسی طور پر بھی برداشت نہیں کریں گے۔

فاٹا خیبر پختونخواہ کا حصہ یا الگ صوبہ؟

فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جائے: قبائلی ارکانِ اسمبلی

پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے علاوہ حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر حکومت مخالف نعرے درج تھے۔

ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ اُن کے اباؤ اجداد نے پاکستان کے لیے جان و مال کی قربانیاں دی ہیں لیکن اس کے صلے میں اُن علاقوں کے مکینوں کو بنیادی انسانی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے جو کہ ملک کے آئین کے بنیادی خدوخال کے بھی منافی ہے۔

Image caption مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر حکومت مخالف نعرے درج تھے

حزب مخالف کی جماعت، جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر توصیف کا کہنا تھا کہ ان قبائلی علاقوں میں آزادی سے پہلے انگریزوں کا بنایا ہوا قانون رائج ہے جس میں بہت سے سقم ہیں اور انھیں دور کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ جن علاقوں میں فرد واحد کا ہر حکم قانون کا درجہ رکھتا ہو، وہاں پر کیسے انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما اجمل خان وزیر کا کہنا تھا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے بارے میں تمام جماعتیں متفق ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پارلیمان ان علاقوں کے بارے میں اس طرح متحرک نطر نہیں آتی جس طرح اُسے ہونا چاہیے۔

اجمل خان وزیر کا کہنا تھا کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کردیا جائے یا اس کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے اور اس کا فیصلہ وہاں کی عوام کو ہی کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں سرحدی امور کے وفاقی وزیر عبدالقادر سمیت قومی سلامتی کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر بھی شامل ہیں۔

تاہم اس کمیٹی میں فاٹا سے تعلق رکھنے والا کوئی رہنما شامل نہیں ہے۔

اسی بارے میں