طیارے کاحادثہ، پائلٹ پولیس کی حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ Twitterzainasghar98
Image caption لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شاہین ایئر انٹرنیشنل کے طیارے کو اترنے کے بعد حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 10 مسافر زخمی ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے نجی فضائی کمپنی شاہین ایئر انٹرنیشنل کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے پر پائلٹ کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 7 کے تحت مقدمہ درج کرکے انھیں کراچی سے گرفتار کر لیا ہے۔

کراچی کے ایس ایس پی ساؤتھ ڈاکٹر فاروق نے تصدیق کی ہے کہ ایف آئی آر انسداد دہشت گردی ایکٹ سیکشن 7 کے تحت لاہور کے سرور روڈ تھانے میں کیپٹن عصمت محمود کے خلاف درج کی گئی تھی۔انھوں نے بتایا کہ پائلٹ کو کراچی سے پنجاب پولیس کی ٹیم نے گرفتار کیا۔

’شاہین ایئر کا پائلٹ تھکا ہوا اور نشے کی حالت میں تھا‘

پولیس اہلکاروں کے مطابق انھیں کراچی سے لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضع رہے کہ گذشتہ ہفتے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شاہین ایئر انٹرنیشنل کے طیارے کو اترنے کے بعد حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 10 مسافر زخمی ہوئے اور طیارے کو نقصان پہنچا تھا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان پرویز جارج نے ایف آئی آر درج کرنے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

’ابھی تو تفتیش مکمل ہی نہیں ہے، جو کہ تکمیل کے بعد حکومت کو پیش کی جائے گی، ہماری طرف سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitterzainasghar98
Image caption عینی شاہدین کے مطابق طیارے کا ایک پہیہ جہاز سے علیحدہ ہو گیا تھا

تاہم بی بی سی کو ملنے والی ایف آئی آر کی کاپی میں کیپٹن عصمت کے خلاف درخواست درج کرنے والے کا نام محمد سبیل واضع ہے جو کہ لاہور ایئرپورٹ پر ڈیوٹی ٹرمینل مینجر ہیں۔ یہ محکمہ سول ایوی ایشن آتھارٹی کے تحت کام کرتا ہے۔

گرفتار کیے جانے والے پائلٹ کے بھانجے سعد جاوید نے بتایا کہ حکام میں سے کسی نے بھی اب تک ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کی کیپٹن عصمت محمود تک کوئی رسائی ہو پا رہی ہے۔ انھوں نے کہا ’رات کو ہمارے گھر کی تالے توڑے گئے، ہمارے ملازم کو مارا گیا، اور ہمیں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے کہ کیپٹن عصمت کو کہاں رکھا گیا ہے۔‘

کیپٹن عصمت کے وکیل حسن وڑائچ کا بھی کہنا ہے کہ انہیں اپنے موکل تک ابھی تک رسائی نہیں دی گئی۔

دوسری جانب ایوی ایشن اتھارٹی نے تمام فضائی کمپنیوں کی پروازوں پر تعینات پائلٹس اور فضائی عملے کے خون کے ٹیسٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں