بولان میں جعفر ایکسپریس کو حادثہ، 12 افراد ہلاک

Image caption ابتدائی معلومات کے مطابق حادثہ کیچ سائیڈنگ کے باعث پیش آیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع بولان میں ریل گاڑی کے حادثے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ میں ریلوے کنٹرول کے مطابق یہ حادثہ کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس کو پیش آیا۔

مستونگ میں ٹریک پر دھماکہ، تین ہلاک

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین آب گم کے قریب پہنچی تو ٹرین کا انجن اور متعدد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے حادثے میں 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ 70 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو سول ہسپتال مچھ اور کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امدادی آپریشن میں ایف سی بلوچستان اور سریع الحرکت فورس کے جوان بھی شریک ہیں۔

مچھ میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق زخمیوں میں 26 کی حالت تشویشناک ہے جنھیں فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے علاج کے لیے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

حکام نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق حادثہ کیچ سائیڈنگ کے باعث پیش آیا ہے۔

Image caption مچھ میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق زخمیوں میں 26 کی حالت تشویشناک ہے

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی جعفر ایکسپریس کے ٹریک پر دھماکہ ہوا تھا جس میں تین افراد مارے گئے تھے۔

جعفر ایکسپریس کو سنہ 2013 میں بھی دو مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اگست میں اسے بولان کے علاقے میں راکٹ سے نشانہ بنایا گیا تھا جس سے ٹرین کا انجن تباہ ہوگیا تھا۔انجن تباہ ہونے کے بعد رکی ہوئی ریل گاڑی پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی گئی تھی جس سے دو مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے قبل جنوری 2013 میں ٹرین پر سبی اور مچھ کے درمیان پنیر کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی جس سے ایک سکیورٹی اہلکار سمیت تین افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں