سردار اور روایت شکن نسرین سمیجو

Image caption نسرین سمیجو ایک گھریلو خاتون ہیں اور ان کا مقابلہ مقامی بااثر شخصیات سے ہے

ایک پسماندہ علاقے کے انتخابات میں اکیلی خاتون امیدوار کی گلی محلے میں روایتی پردے کے بغیر انتخابی مہم۔

جاتی شہر میں ایک خاتون کے اس طرح باہر نکلنے کا تصور بھی محال تھا لیکن ٹاؤن کمیٹی کی کونسل کی آزاد امیدوار نسرین سمیجو نے یہ روایت توڑ کر ایک نئی تاریخ اور مثال قائم کی ہے۔

جاتی سندھ کے ساحلی علاقے کا ایک قصبہ ہے جہاں خواتین گھروں تک محدود رہتی ہیں۔

سندھ میں انتخابی گہماگہمی اور کشیدگی ساتھ ساتھ

ضلع سجاول کے شہر کی اس ٹاؤن کمیٹی کے چار وارڈوں میں سے دو پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ نسرین سمیجو پیپلز پارٹی کے ایک دیرینہ کارکن کی بیوی ہیں جنھیں پارٹی نے انتخاب میں نامزدگی کا ٹکٹ نہیں دیا۔

نسرین سمیجو ایک گھریلو خاتون ہیں اور ان کا مقابلہ مقامی بااثر شخصیات سے ہے۔

’ان پر مقامی سرداروں کا دباؤ ہے کہ دستبردار ہوجائیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہی ووٹ لیں اور کامیاب ہوتے رہیں حالانکہ وہ ساری زندگی غریبوں کا لہو پیتے رہے ہیں لیکن انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے۔میں اس لیے انتخاباب لڑ رہی ہوں تاکہ اپنے بھائیوں کی مدد کروں، پینے کے پانی، صفائی ستھرائی اور صحت کی سہولیات کو یقینی بناؤں۔‘

نسرین سمیجو کے وارڈ کے قریب پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کا انتخابی کیمپ موجود تھا ہے، جنھیں سیاسی طور پر بااثر ملکانی خاندان کی سفارش پر ٹکٹ دیے گئے۔ ان امیدواروں میں ملکانی خاندان کے بھی کئی لوگ شامل ہیں اور ضلع ناظم پر بھی ملکانی خاندان کی نظریں ہیں جبکہ یہ ہی خاندان برسوں سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر بھی کامیابی حاصل کرتا آیا ہے۔

Image caption ٹھٹہ ضلع میں سینیٹر اور سابق صوبائی وزیر سسئی پلیجو کے والد غلام قادر پلیجو اور بھائی سرمد پلیجو بھی ضلع کونسلر کے امیدوار ہیں

جب کیمپ پر پہنچا تو پیپلز پارٹی کا ایک پرانا گیت ’بھٹو کے قاتل ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر ماریں گے‘ بجایا جا رہا تھا جبکہ اس کے بعد بینظیر بھٹو کی بھی ہلاک ہو چکی ہے۔

جاتی میں اس کیمپ کے علاوہ کئی مقامات پر امیدواروں کے پینا فلیکس موجود ہیں جن میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال ٹالپور کی تصاویر بھی واضح ہیں۔

کیمپ کے سامنے ملکانی برادارن کی ایک اور تصویر موجود تھی جس میں وہ گذشتہ عام انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل وہ مسلم لیگ قاف میں رہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر کئی جماعتوں نے بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کی نامزدگی موجودہ اور سابق رکن اسمبلی کی سفارش سے مشروط کر دی تھی اور نتیجے میں ان کی نظر کرم اپنے عزیزوں اور رفقا پر پڑی۔

نسرین سمیجو کے شوہر دلدار سمیجو بچپن سے بھٹو کے مداح ہیں انتخابی کیمپ پر شہریوں سے مخاطب ہوکر انھوں نے پارٹی قیادت سے شکوہ کیا کہ انھیں جھاڑو دینے والوں کی نگرانی کی بھی نشست نہیں دی حالانکہ بلاول بھٹو نے جاگیرداروں اور وڈیروں کوکہا تھا کہ انتخابات میں کارکنوں کو آگے لایا جائے۔

Image caption جاتی سندھ کے ساحلی علاقے کا ایک قصبہ ہے جہاں خواتین گھروں تک محدود رہتی ہیں

سندھ میں جاری بلدیاتی انتخابات میں بھی خاندانی سیاست کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ دعوؤں کے برعکس قریباً ہر جماعت کا یہی حال ہے۔ باپ یا بھائی قومی یا صوبائی اسمبلی میں پہلے سے موجود اور بیٹا ضلع اور ٹاؤن کی قیادت کا امیدوار۔ پہلے مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے میں بھی یہ ہی رجحان حاوی رہا ہے۔

چھتو چنڈ ٹھٹہ ضلعہ کی یونین کونسل ہے، جہاں سبز جھنڈوں کے ساتھ ایک نوجوان کی قیادت میں گاڑیوں کا قافلہ انتخابی مہم میں سرگرم نظر آیا۔ یہ تھے شیرازی خاندان کے ریاض شیرازی جو ضلع کونسل کے امیدوار ہیں۔ ان کے خاندان کے پاس پہلے ہی چار صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کی نشست موجود ہے لیکن وہ ضلعی ناظم کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھنے کے خواہشمند ہیں۔

ریاض شاہ شیرازی نے بتایا کہ ’صحت اور تعلیم، ان کی اولیین ترجیح ہوگی۔ ان کے خاندان سے ایم پی اے اور این اے ہیں لیکن حکومت نے انھیں فنڈ فراہم نہیں کیے جس وجہ سے وہ کارکردگی نہیں کر دکھا سکے ہیں۔‘

شیرازی خاندان موجودہ وقت مسلم لیگ ن میں شامل ہے جبکہ گذشتہ انتخابات میں انھیں پاکستان پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دیے لیکن انھوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی جبکہ اس قبل وہ مسلم قاف میں شامل تھے۔

Image caption سجاول میں جھنڈوں کی تبدیلی کے ساتھ چہرے وہ ہی رہے ہیں

ریاض شاہ شیرازی کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کی غمی و خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ روز کا رابطہ ہے اس لیے لوگ پارٹی نہیں انھیں دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں۔

سابق ٹھٹہ ضلع اور موجودہ ٹھٹہ اور سجاول کا شمار سندھ کے ان پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے جہاں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہاں صحت، تعلیم کے علاوہ پینے کے پانی کی سہولت کا بھی فقدان ہے۔ سمندر کی سطح بلند ہونے اور سمندری طوفان سے یہاں لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اس عرصے میں کئی حکومت تبدیل ہوئیں لیکن جھنڈوں کی تبدیلی کے ساتھ چہرے وہ ہی رہے ہیں۔

ٹھٹہ ضلع میں سینیٹر اور سابق صوبائی وزیر سسئی پلیجو کے والد غلام قادر پلیجو اور بھائی سرمد پلیجو بھی ضلع کونسلر کے امیدوار ہیں وہ بھی ضلع ناظم کے خواہشمند ہیں۔

ٹھٹہ کے علاوہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی پرانے سیاسی خاندان حاوی ہیں اور اس صورتحال میں عام کارکن کا سامنے آنے مشکل ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں