بلدیاتی انتخابات میں ’پاکستان کسان اتحاد‘ کا جنم

Image caption ’غریب کسان کا دکھ درد جو ہم جانتے ہیں، وہ نہیں جانتے‘

سرور کمبوہ ضلع خانیوال کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے چھوٹے کاشتکار ہیں۔ وہ دو ایکڑ زمین کو کاشت کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ لیکن ٹریکٹر کے ذریعے حل چلا کر اپنی زمین کو گندم کی بوائی کے لیے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ آج کل ان کی کچھ سیاسی مصروفیات بھی ہیں۔

سرور کمبوہ اپنی یونین کونسل کے چیئرمین کا انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ صبح سویرے اُٹھ کر اپنی زمینوں پر حل چلاتے ہیں اور دن چڑھے اپنی انتخابی مہم پر نکل پڑتے ہیں۔

اپنے ہی نمائندوں کے انتخاب سے محروم کیوں؟

ٹریکٹر چلاتے چلاتے، اُنہیں انتخابی مہم چلانے کا خیال کیوں آیا؟ سرور کمبوہ کہتے ہیں کہ ملک کی باقی سیاسی جماعتوں میں بھی دیہی علاقوں کی نمائندگی ہے لیکن یہ نمائندگی بڑے زمینداروں کی حد تک ہے۔ منتخب ایوانوں میں چھوٹے کسان کا نمائندہ کوئی نہیں۔

’غریب کسان کا دکھ درد جو ہم جانتے ہیں، وہ نہیں جانتے۔ وہ زمیندار ہیں، ہم کسان ہیں، چھوٹے طبقے کے کسان اور کسانوں کے لیے ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اسمبلیوں میں بیٹھے زمیندار ہم کسانوں کے لیے کچھ نہیں کرتے۔‘

سرور کمبوہ پاکستان کسان اتحاد نامی جماعت کے عہدیدار ہیں جو صوبہ پنجاب کے سیاسی اُفق پر ان ہی بلدیاتی انتخابات میں نمودار ہوئی ہے۔ کسان اتحاد نے پہلے مرحلے میں پنجاب کے دس اضلاع میں اپنے امیدوار انتخابی میدان میں اُتارے اور تقریباً ہر ضلعی کونسل میں نشستیں جیتیں۔ چوہدری انور پاکستان کسان اتحاد نامی تنظیم کے سربراہ ہیں۔ پنجاب میں جاری بلدیاتی انتخابات میں دو بڑی سیاسی جماعتوں میں مقابلہ ہے۔ ایسے میں ان کی اپنی چھوٹی سی نومولد سیاسی جماعت کیا حاصل کر پائے گی؟ چوہدری انور اس بارے میں بہت واضح مقاصد رکھتے ہیں۔

Image caption پاکستان کسان اتحاد واحد جماعت نہیں ہے جو پنجاب میں جاری بلدیاتی انتخابات میں کسانوں کی نمائندگی کی دعویدار ہے

’پہلے تو ہماری بات کرنے والا ہی کوئی نہیں ہوتا تھا۔ اب اگر دو چار یا پانچ سات بندے منتخب ایوان میں بیٹھے ہیں، چیئرمین اور کونسلر سطح کے، تو وہ ہماری بات تو کریں گے، تبدیلی تو آئے گی۔ پہلے تو ہمارا نمائندہ تھا ہی نہیں۔ کوئی ہماری بات ہی نہیں کرتا۔‘

پاکستان کسان اتحاد واحد جماعت نہیں ہے جو پنجاب میں جاری بلدیاتی انتخابات میں کسانوں کی نمائندگی کی دعویدار ہے۔ صوبے میں ایسی کئی تنظیمیں اور افراد ہیں جو بڑی سیاسی جماعتوں کے بجائے آزاد حیثیت میں ان

افتخار جگا بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ مسیحی ہیں اور مسلم اکثریتی علاقے سے عام نشست پر چیئرمین یونین کونسل منتخب ہوئے ہیں۔ وہ اپنی فتح کا سہرا بھی اس علاقے میں کام کرنے والی کسانوں کی تنظیم کے سر باندھتے ہیں۔

’مجھے ووٹ اپنی تنظیم انجمن مزارعین پنجاب کے نام پر ملے ہیں مذہب یا شخصیت کے نام پر نہیں۔ میں یہ بات فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ مجھے مسلمانوں نے زیادہ تعداد میں ووٹ دیے ہیں کیونکہ یہاں پر مذہب مسئلہ نہیں ہے بلکہ مقابلہ روایتی اور بڑے زمینداروں اور بے زمین مزارعوں میں تھا۔‘

پنجاب کے کسان ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اپنا مجرم سمجھتے ہیں۔ ضلع خانیوال کے بعض کسانوں سے پوچھا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کے بارے میں اس منفی رائے کی وجہ کیا ہے؟ بیشتر کی رائے یہی تھی کہ گزشتہ کئی سالوں سے چھوٹا کسان کبھی کھاد اور کبھی کیڑے مار دوائیوں اور کبھی فصلوں کی قیمتوں کے بحران کا شکار رہا ہے لیکن بڑی سیاسی جماعتوں نے ووٹ لینے کے باوجود ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایسے میں ان کے پاس اپنے امیداوار براہ راست انتخاب میں لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

Image caption پنجاب کے کسان ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اپنا مجرم سمجھتے ہیں

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں حکمران جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں۔ اس کے بعد آزاد امیدواروں کا نمبر آتا ہے جن میں سے بیشتر کو کسانوں کے انہی چھوٹے بڑے گروپوں کی حمایت حاصل تھی۔

جمعے کے روز ہونے والے ان انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی کسانوں کی یہ تنظیمیں بڑی تعداد میں حصہ لے رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ یہ تنظیمیں اور ان کے آزاد امیدوار پنجاب میں حکمران جماعت کے لیے خاص طور پر دیہی علاقوں میں ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں