حکمران جماعت کے رکن اسمبلی کے قابلِ ضمانت وارنٹ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
Image caption عابد رضا صوبہ پنجاب کے شہرگجرات سے پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار کو ہرا کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے انسدادِ دہشت گردی کے مقدمے میں رہائی پانے والے حکمراں جماعت کے رکن قومی اسمبلی عابد رضا کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے عابد رضا کو متعلقہ پولیس سٹیشن میں دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے اور آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا ہے۔

واضح رہے کہ عابد رضا صوبہ پنجاب کے شہرگجرات سے پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار کو ہرا کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو انتخابی عذر داریوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

عابد رضا کے مخالف چوہدری الیاس نے ان کی اہلیت کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ چھ افراد کے قتل کے مقدمے میں مقتولین کی فیملی کے ساتھ سمجھوتے کے بعد رہا ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 1998 میں چھ افراد کے قتل کے مقدمے میں عابد رضا کو گرفتار کیا گیا اور ان پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتولین نے عابد رضا کومعاف کر دیا تاہم انسدادِ دہشت ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت تو سجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس پر عدالت نے عابد رضا کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اُنھیں آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عابد رضا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں پیش ہو ں گے۔

حکمران جماعت کے رکن قومی اسمبلی عابد رضا سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈیول میں بھی رہے تاہم عابد رضا کے بقول انھیں اس شیڈیول سے نکال دیا گیا ہے۔