دل و دماغ ٹھنڈا رکھنا ہوگا

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption دہشت گردوں کی نفسیات سمجھنی ہے تو کسی جنرل کے دماغ سے نہیں تھیئٹر پروڈیوسر بن کے سمجھنی ہو گی

بھلے آپ طاقت میں کتنے ہی ہرکولیس، رستم اور سہراب ہوں اگر آپ جنگلی بھینسے کو سامنے آ کے سینگوں سے پکڑ کے پچھاڑنے کی کوشش کریں گے تو 99.9 فیصد امکان ہے کہ بھینسا آپ کو خوشی خوشی سینگوں میں پرو کر تماشائیوں پر اچھال دے اور مضحکہ الگ اڑے گا۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک تجربہ کار بل فائٹر جو بھینسے کی طاقت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، بھینسے کو کیسے اشتعال دلا دلا کے پہلے تھکاتا ہے اور چھوٹے چھوٹے وار کر کے اس کا زیادہ سے زیادہ خون ضائع کرواتا ہے اور جب بھینسا حواس بالکل کھو بیٹھتا ہے تو بل فائٹر فیصلہ کن وار کر کے اسے مار گراتا ہے اور تماشائی گرویدہ ہو جاتے ہیں۔

مچھر کی کیا حیثیت ہے؟ ایک بچہ بھی چٹکی میں مسل سکتا ہے۔ مگر آپ نے مذہبی کہانیوں میں ضرور پڑھا ہوگا کہ ایک مچھر جب نمرود کی ناک میں گھس گیا تو بادشاہت ہی ختم کر دی۔ فلم یشونت میں نانا پاٹیکر کا یہ جملہ کس کس نے نہیں سنا ’سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے۔‘

مکھی کی کیا اوقات؟ یہی بے اوقات مکھی آپ کے چہرے پر فدا ہو جائے اور آپ اسے ہاتھ سے اڑاتے یا نظر انداز کرتے کرتے آگ بگولا ہو کے جان سے مارنے کا تہیہ کر لیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ اپنا ہی چہرہ پیٹ پیٹ کر لال ہو جائے اور مکھی پھر بھی آپ کے انار جیسے ناک، دھواں دھار کانوں اور اپنے ہی چانٹوں سے نیلےگالوں کے آس پاس فاتحانہ منڈلاتی رہے۔ مر بھی گئی تو دوسری آ جائے گی۔ کیا دوسری سے بھی اسی طرح نمٹیے گا؟

دنیا کی ہر ریاست گینڈے کی طرح ہوتی ہے۔طاقتور، مگر وزن زیادہ ہونے کے سبب غیر لچکدار، نگاہ کمزور ہونے کے نتیجے میں خطروں کی سنگینی و غیر سنگینی کے بارے میں فوری بھانپنے کی صلاحیت سے محروم اور ناگہانی حملے کی صورت میں فوراً غضب ناک ہو کر گردن موڑے بغیر دشمن کے پیچھے سیدھا بھاگنے کی عادت اور دشمن جھکائی دے کر ایک جانب ہو جائے تو اپنے ہی زور میں آگے نکل جانے کی فطرت، کیونکہ فوری پلٹنے کی صلاحیت ہی نہیں۔

جھنجھلایا گینڈا بھاری قدموں کی دھمک سے زمین تو ہلا سکتا ہے مگر شکاری کہاں دھمک خاطر میں لاتے ہیں۔ چنانچہ جب خونخوار دانتوں والے کتے کے سائز کے چار پانچ لگڑ بگے گینڈے کا شکار کرتے ہیں تو گینڈے کے آگے پیچھے بھاگتے ہوئے پہلے حواس باختہ کرتے ہیں اور پھر کبھی ٹانگ پر کاٹ لیا تو کبھی کمر پر دانت گاڑ کے دوسری طرف کود گئے تو کبھی دم سے لٹک گئے تو کبھی تھوتھنی پہ پنجہ مار کے نکل بھاگے۔

یوں گینڈے کی کور چشمی ہی اسے تھکا کے گرا دیتی ہے اور لگڑ بگے ضیافت اڑاتے ہیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گرد ریاست کو پچھاڑنے کے لیے کبھی پوری طرح سامنے آنے اور اپنی طاقت کے سارے پتے میز پر رکھنے کا خطرہ مول نہیں لیتے، بلکہ بل فائٹر، مچھر، مکھی اور لگڑ بگے کی طرح متحرک رہتے ہیں۔

ان کا سب سے بڑا ہتھیار سرپرائز ہے۔ جب تک بھینسے اور گینڈے جیسی ریاست کی سمجھ میں ان کی ایک تکنیک آئے وہ دوسری تکنیک اپنا لیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مچھر مارنے کے لیے ایٹم بم کی نہیں، حواس پر مسلسل قابو پاتے ہوئے، غصے سے پاگل ہوئے بغیر صرف ٹھنڈے دماغ سے ثابت قدمی دکھاتے ہوئے ہر دم لچکدار حکمتِ عملی اپنانے اور سٹیمنا محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے مگر جب تک یہ سب سمجھ میں آئے تب تک اکثر دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آج بھی کسی عام آدمی سے پوچھ لیں وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا ہی ذکر کرے گا اور پینٹاگون پر حملہ یاد دلانے پر ہی یاد آئے گا

بھینسے اور گینڈے کے مقابلے میں ریاست کو یہ اضافی جبلی سہولت بھی میسر ہے کہ وہ دونوں سے بہتر سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن جبلی غصہ یہ صلاحیت ایسے سلب کرتا ہے جیسے آگ بھوسے کو کھاتی ہے اور جب تک ہوش آئے تب تک مٹھی بھر دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت کچھ برباد ہو چکا ہوتا ہے۔

حدیث ہے کہ غصے کی حالت میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ، بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ (تاکہ ٹھنڈے دماغ سے گرد و پیش سمجھنے اور اس کے مطابق قدم اٹھانے کی مہلت مل سکے)۔ یہ حدیث انسانوں اور انسانوں کی بنائی ریاست پر یکساں لاگو ہے۔

برطانوی اخبار گارڈیئن میں اس سال جنوری میں سرکردہ مورخ یوال نوح ہراری کا دہشت گردی اور ریاست کے موضوع پر ایک سیر حاصل مضمون شائع ہوا۔

ایک جگہ لکھتے ہیں: ’دہشت گرد روایتی جنگ نہیں لڑ سکتے لہٰذا وہ خوف کو ڈرامائی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ دہشت گرد فوجی جنرلوں کی طرح نہیں تھیئٹر پروڈیوسر کی طرح سوچتے ہیں۔‘

اگر آپ کسی سے بھی پوچھیں کہ نائن الیون کے دن کیا ہوا تو وہ جھٹ بتائے گا کہ اس روز القاعدہ نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے جڑواں ٹاور تباہ کر دیے۔ حالانکہ اس حملے میں دو ٹاور ہی تباہ نہیں ہوئے بلکہ پینٹاگون کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ لوگوں کی یادداشت میں پینٹاگون پر حملہ اتنا محفوظ نہیں؟

القاعدہ نے دشمن کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر کو نہ صرف مفلوج کردیا تھا بلکہ اس حملے میں کئی سینیئر امریکی کمانڈر اور دفاعی معلومات کے تـجزیہ کار بھی مارے گئے تھے۔ اگر نائن الیون کی کارروائی کوئی روایتی فوجی آپریشن ہوتا تو پینٹاگون پر حملہ سب کو یاد رہتا مگر آج بھی کسی عام آدمی سے پوچھ لیں وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر ہی کا ذکر کرے گا اور پینٹاگون پر حملہ یاد دلانے پر ہی یاد آئے گا۔

وجہ یہ ہے کہ پینٹاگون سٹریٹیجک اعتبار سے انتہائی اہم ہونے کے باوجود ورلڈ ٹریڈ ٹاور جیسی بلند و بالا عظیم الشان عمارت نہیں کہ جس کے انہدام کے منظر کا انسانی آنکھ پر گہرا صوتی و بصری اثر ہوتا۔ جس نے بھی ٹاورز گرتے دیکھے وہ یہ فلمی منظر تا حیات یاد رکھے گا۔ اگر حملہ آوروں کا بس چلتا تو وہ پینٹاگون سے ٹکرانے والا طیارہ مجسمۂ آزادی سے ٹکراتے۔ بھلے زیادہ جانی و فوجی نقصان نہ بھی ہوتا لیکن اس منظر سے کیسا دہشت انگیز ڈرامائی تاثر جنم لیتا کہ مجسمۂ آزادی اب نہیں رہا۔

دہشت گردوں کی نفسیات سمجھنی ہے تو کسی جنرل کے دماغ سے نہیں تھیئٹر پروڈیوسر بن کے سمجھنی ہو گی۔اگر آپ دہشت گردی سے موثر انداز میں لڑنا چاہتے ہیں تو یہ بات ذہن میں پکانی ہو گی کہ دہشت گردوں سے شطرنجی دماغ کے ذریعے نمٹنے کے بجائے روایتی ردِعمل، حکمتِ عملی اور بے جا طاقت استعمال کر کے کہیں ہم ہی ان کے ہاتھوں کھلونا بن کر خود کو ہی شکست نہ دے بیٹھیں۔

ایک ایرانی ضرب المثل ہے: ’اصفہان کے بھیڑیے سے اصفہان کا کتا ہی نمٹ سکتا ہے،‘ جو سمجھے اس کا بھی بھلا، نہ سمجھے اس کا بھی بھلا۔ فقیر کا کام ہے صدا لگانا۔

اسی بارے میں