سانحہ پشاور: مجرمان کی رحم کی اپیلیں مسترد کرنے کی سفارش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیان میں کہا گیا ہے کہ پوری قوم کی شدید خواہش ہے کہ ایسے مجرمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے

پاکستان کے وزیر اعظم نے صدر مملکت کو گذشتہ برس دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے مقدمے میں فوجی عدالتوں کی طرف سے چار مجرموں کو ملنے والی سزائے موت کے خلاف رحم کی اپیلیں مسترد کرنے کی سفارش کی ہے۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے صدر مملکت ممنون حسین کو یہ سفارش آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت کی ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے اور بچوں کو بہیمانہ طریقے سے ہلاک کرنے والے مجرمان کسی طور پر بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد پوری قوم شدت پسندی کے خلاف متحد ہو گئی تھی جبکہ اس واقعے کے بعد پارلیمنٹ نے ایسے شدت پسندوں کو اُن کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے ان عدالتوں کو بااختیار بنایا گیا ہے کہ وہ مختصر عرصے میں ایسے مجرموں کے مقدمات کی سماعت مکمل کر کے اُنھیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پوری قوم کی شدید خواہش ہے کہ ایسے مجرمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 16 دسمبر سنہ 2014 کو آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے میں 140 سے زائد بچے ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے

واضح رہے کہ فوجی عدالتوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے کے الزام میں چھ افراد کو موت کی سزا سنائی تھی۔ ابھی تک یہ حقیقت سامنے نہیں آ سکی کہ سزائے موت پانے والے افراد کے کے مقدمات کی پیروی کون کر رہا ہے اور یہ بھی ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ان مجرمان نے فوجی عدالتوں کے طرف سے ملنے والی سزا کے خلاف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں کوئی درخواست دائر کی ہے یا نہیں۔

پشاور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے دو افراد کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا تاہم یہ مجرمان فوجی تنصیبات اور سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے کے مقدمات میں ملوث ہیں۔

اسی بارے میں