دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون درکار ہے: جنرل راحیل

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption جنرل راحیل شریف رواں ہفتے پیر کو واشنگٹن پہنچے ہیں جہاں انھوں نے امریکی افواج کے اعلیٰ حکام اور امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری سے ملاقات کی

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی دنیا بھر کے لیے خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے عالمی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اور تعاون کی ضرورت ہے۔

جمعرات کو واشنگٹن میں جنرل راحیل شریف نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے انٹیلجنس کے اراکین سینیٹر رچررڈ بیر اور ڈینی فیانسٹن سے ملاقات کی۔

جان کیری سے ملاقات، ’جنرل راحیل کا مسئلہ کشمیر کے حل پر زور‘

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جمعرات کو سینیٹ کمیٹی کے ممبران سے ملاقات میں فوج کے سربراہ نے بتایا کہ فوج نے پاکستان میں شدت پسندوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے۔

بیان کے مطابق امریکی سینیٹ کمیٹی کے سربراہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور جنرل راحیل کو یقین دہانی کروائی کہ دہشت گردی اور شدت پسندت کے خاتمے کے لیے امریکہ اپنی حمایت اور تعاون جاری رکھے گا۔

آرمی چیف نے سینیٹ کی مسلح افواج سے متعلق کیمٹی کی اراکین سے بھی ملاقات کی۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین اور سینیٹر جیک ریڈ نے کیپٹل ہل میں جنرل راحیل شریف کا استقبال کیا۔

سینیٹر مکین نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک ختم کرنے پر پاکستان کی فوج کی کوششوں اور قربانیوں کی تعریف کی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل ایک ایسے وقت پر امریکہ کے دورے پر ہیں جب امریکی کانگریس نے پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملنے والے فنڈز میں کمی کی ہے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب پر رقوم اپنی ’جیب‘ سے خرچ کی ہیں۔

جنرل راحیل نے مسلح افواج کی کمیٹی کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کاوشوں سے آگاہ کیا۔

پاکستان اور امریکہ کے مابین دفاعی تعلقات پر بات کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین نے کہا کہ تعمیر و ترقی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امریکہ اور پاکستان کی وسیع تر شراکت داری بہت ضروری ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ سکیورٹی کی علاقائی صورتحال کو مدِ نطر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پاکستان افغانستان کے درمیان سرحد کو زیادہ منظم کیا جائے اور موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر مستحکم تعاون ضروری ہے۔

اسی بارے میں