پنجاب، سندھ میں بلدیاتی انتخابات، ووٹوں کی گنتی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب اور سندھ کے 26 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق غیر حمتی، غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے مطابق’پنجاب میں مسلم لیگ نون اور سندھ میں پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہے۔‘

یہ انتخابات سپریم کورٹ کے احکامات پر دوسرے مرحلے میں پنجاب کے 12 اور سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔

صوبہ سندھ کے آٹھ اضلاع کی 81 یونین کونسلوں میں الیکشن ملتوی

بلدیاتی الیکشن میں ’پاکستان کسان اتحاد‘ کا جنم

الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا عمل صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا اور کسی وقفے کے بغیر شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہا۔

پنجاب کے جن 12 اضلاع میں ووٹنگ ہوئی ان میں خانیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، ساہیوال، چینوٹ، شیخوپورہ، حافظ آباد، اٹک، جہلم، گوجرانوالہ اور منڈی بہاؤ الدین شامل تھے۔

پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جن کے لیے 12 ہزار کے قریب پولنگ سٹیشن بنائے گئے تھے۔

ان اضلاع میں 27544 امیدوار ہیں جبکہ 913 پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

پنجاب میں دوسرے مرحلے میں بھی حکمران مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں میں مقابلہ ہے جبکہ پہلے مرحلے میں مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الیکشن کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے

پنجاب میں سکیورٹی کے لیے پولیس کے علاوہ فوج کی 40 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔

سندھ کے جن 14 اضلاع میں انتخابات ہوئے ان میں حیدرآباد ، ٹنڈو محمد خان ، ٹنڈواﷲ یار ، مٹیاری ، دادو ، جامشورو ، بدین ، ٹھٹہ ، سجاول ، شہید بے نظیر آباد ، نوشہرو فیروز ، میرپور خاص ، عمر کوٹ اور تھرپارکر شامل ہیں۔

سکیورٹی خدشات کے باعث سانگھڑ میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

بلدیاتی الیکشن کے دوران سندھ میں 71 لاکھ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبے میں انتخابی عمل پرامن طریقے سے جاری رہا تاہم بعض مقامات پر آزاد امیدواروں نے شکایت کی ہے کہ ان کے انتخابی نشانات تبدیل کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق بدین سے غیر روایتی ٹرن آؤٹ کی اطلاعات ہیں، جہاں مرد اور خواتین ووٹروں کی بڑی قطاریں موجود ہیں۔ یہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے حمایتی پینل میں مقابلہ ہے۔ غیر معمولی انتخابی مہم نے صبح کو ہی دونوں فریقین کے حمایتیوں کی ایک بڑی تعداد کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواتین کی بڑی تعداد بھی ووٹ ڈالنے والوں میں شامل تھیں

بعض مقامات پر خواتین پولنگ سٹیشن پر عملے کی کمی دیکھی گئی جبکہ شہر سے چار کلومیٹر دور ولی محمد جمالی میں خواتین کی پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ تاخیر سے شروع ہوئی۔

ضلع بدین کے شہروں میں پولیس اور رینجرز گشت پر مامور رہے جبکہ فوج کے دستے آن کال تھے۔

حیدرآباد کے علاقے حسین آباد کی یونین کمیٹی 53 میں اس وقت کشیدگی اور فائرنگ کے بعد انتخابات ملتوی کر دیے گئے جب ایک آزاد امیدوار نے مبینہ طور پر غلط انتخابی نشان دینے پر احتجاج کیا۔

راہب سولنگی نامی امیدوار کے حمایتیوں نے حسین آباد چوک پر دھرنا دیا اور کشیدگی بڑھنے پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر نے انتخابات ملتوی کر دیے۔

حیدرآباد شہر کی یونین کمیٹی آٹھ اور قاسم آْباد میں بھی امیدواروں نے نشان تبدیل کرنے کی شکایت کی۔

اس سے قبل قاسم آباد میں سندھ یونائٹڈ پارٹی کے انتخابی دفتر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تنظیم کے مقامی رہنما ڈاکٹر انور لغاری ہلاک جبکہ دو افراد سنی چانڈیو اور سمیع چانڈیو زخمی ہوگئے۔

اسی بارے میں