آرمی چیف وزیراعظم کی منظوری کے بعد امریکہ گئے: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’بعض لوگ اپنی خواہشات کے مطابق سول اور ملٹری لیڈرشپ کے تعلقات دیکھنا چاہتے ہیں‘

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملک میں سول اور ملٹری تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں ہے اور آرمی چیف کے دورہ امریکہ کی سمری وزیر اعظم ہی نے منظور کی تھی۔

جمعے کے روز پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’بعض لوگ اپنی خواہشات کے مطابق سول اور ملٹری لیڈرشپ کے تعلقات دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اُن کی خواہش شاید پوری نہ ہو۔‘

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون درکار ہے: جنرل راحیل

’آپریشن کے بھرپور نتائج کے لیے گورننس بہتر کی جائے‘

اُنھوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف امریکہ جانے سے پہلے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کر کے گئے تھے۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے متعدد بیرونی دوروں میں آرمی چیف بھی وزیر اعظم کے ساتھ رہے ہیں۔

اُنھوں نے حال ہی میں کورکمانڈر اجلاس کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے اس بیان کی وضاحت آگئی تھی جس کے بعد اب یہ باب بند ہو جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف کامیاب فوجی آپریشن کے بعد گورننس کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے متعدد بیرونی دوروں میں آرمی چیف بھی وزیر اعظم کے ساتھ رہے ہیں

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق آئندہ ہفتے اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں اس پلان پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کو فعال بنانے کے لیے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم جاری کر دی گئی ہے جس سے شدت پسندی کے خلاف بنائی جانے والی پالیسی پر عمل درآمد میں تیزی لائی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کی پاکستان واپسی سے متعلق یورپی یونین کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کا ایک وفد آئندہ ہفتے پاکستان آ رہا ہے جس میں اس معاہدے میں موجود سقم کو دور کرنے پر بات ہو گی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نو ہزار سے زائد غیر ضروری افراد کے نام نکال دیے گئے ہیں اور ای سی ایل میں صرف تین ہزار سے زائد افراد کے نام ہیں جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں