سعودی عرب میں تین سالوں میں 38 پاکستانیوں کے سر قلم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ عراق میں 500 کے قریب پاکستانی مختلف جیلوں میں قید ہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران سعودی عرب میں 38 پاکستانیوں کے سر قلم کیے گئے یہ افراد قتل اور منشیات کے مقدمات میں گرفتار ہوئے تھے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں ان افراد کی فہرست بھی پیش کی گئی جن کے سر سعودی عرب میں قلم کیے گئے ہیں تاہم اس بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان افراد کا تعلق کس علاقے ہے۔

سعودی عرب میں ایک اور پاکستانی شہری کا سرقلم

سعودی عرب: ایک پاکستانی سمیت دو افراد کے سر قلم

وزارتِ داخلہ کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر متعدد غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کیے ہیں جن میں سے متعدد افراد منشیات سمگلنگ کے الزام میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔

قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ عراق میں 500 کے قریب پاکستانی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ یہ افراد مقدس مقامات کی زیارت کے لیے گئے تھے اور ان پر الزام ہے کہ وہ مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ عراق میں قیام پذیر رہے ہیں۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ان افراد کے مقدمات قاضی کی عدالتوں میں بھجوا دیے گئے ہیں جو ان کو ملک بدر کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

وزارتِ خارجہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ جنوبی کوریا میں بھی چھ پاکستانی قید ہیں اور ان پر قتل اور زنا کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

ایوان کو بتایا گیا کہ قیدیوں کے تبادے کے سلسلے میں پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت وہ رہی ہے اور جونھی دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ طے پاگیا تو یہ مجرمان اپنی سزا کا باقی حصہ پاکستان میں گزار سکیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزارت داخلہ کے حکام نے تحریری طور پر قومی اسمبلی کو بتایا کہ اس وقت دنیا بھر میں 19 ایسے افراد کو مختلف ممالک میں بطور سفیر تعینات کیاگیا ہے جن کا تعلق فارن سروس سے نہیں ہے۔ ان میں سے دس سفیر فوج کے ریٹائرڈ افسران ہیں جبکہ تین افراد فارن سروس سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

اجلاس میں پیرس میں شدت پسندی کے واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

اسی بارے میں