بھارتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت فراہم نہ کرنے کی خبر غلط

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ پاکستان نے بھارتی مداخلت کی دستاویزات میں اقوامِ متحدہ کو ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے۔

اس سے قبل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا تھا کہ وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ نے سینیٹ کی کمیٹی کو بریفنگ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور امریکہ کو فراہم کردہ دستاویزات میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔

بھارت کے لیے امن ایجنڈہ

بھارتی مداخلت کے ثبوت

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کو قومی اسمبلی سے اسی حوالے سے کیے جانے والے خطاب میں سرتاج عزیز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں بھارتی مداخلت کی جو دستاویزات تیار کی تھیں ان میں ٹھوس مواد موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب اس معاملے پر پیش رفت ہوگی تو حساس معاملات پر موجود ثبوت بھی فراہم کیے جائیں گے۔

بی بی سی سے گفتگو میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ نے جمعرات کو سینیٹ کمیٹی کو دی جانے والی تفصیلی بریفنگ میں وزیراعظم کے دورہ امریکہ اور جنرل اسمبلی اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ کمیٹی کے ارکان نے مشیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ امریکہ اور اقوامِ متحدہ کو بھارتی مداخلت کے ثبوتوں کی جو دستاویزات فراہم کی گئی تھیں، اس کی ایک نقل انھیں بھی دی جائے۔ تاہم سینیٹر سرتاج عزیز نے کہا کہ نقول فراہم کرنے سے ایسی معلومات کو ’محفوظ رکھنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ سرتاج عزیز نے کمیٹی اراکین کی جانب سے اس معاملے پر بند کمرے میں بریفنگ دیے جانے کے مطالبے پر غور کرنے کا یقین دلایا ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا یہ اطلاعات درست ہیں کہ حکومت کی جانب سے تیار کردہ بھارتی مداخلت کی دستاویزات میں ٹھوس ثبوت موجود نہیں؟

ان کا جواب تھا: ’انھوں (سرتاج عزیز)نے یہ کہا تھا کہ ٹھوس شواہد ہم نے اس میں نہیں ڈالے کیونکہ ہم ٹھوس شواہد پبلک نہیں کرنا چاہتے، جب اگلا مرحلہ آئے گا تو تب اس میں ٹھوس شواہد شامل کیے جائیں گے۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ وزیراعظم کے مشیر کے مطابق احتیاط کے پیشِ نظر ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اپوزیشن رہنما فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ حکومت نے اگر ٹھوس شواہد شامل نہیں کیے تو پھر عوام کے سامنے یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ ٹھوس شواہد فراہم کیے گئے ہیں؟

حکومت کی جانب سے سینیٹ کی کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ میں بالخصوص کن علاقوں میں بھارت کی مداخلت کا ذکر کیا گیا؟

اس کے جواب میں فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ ان دستاویزات میں بھارت کی بلوچستان اور فاٹا میں مداخلت کا ذکر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کو اگر اس بات پر یقین ہے کہ بھارت مداخلت کر رہا ہے تو پھر بلا تردد ثبوت فراہم کیے جانے چاہییں لیکن اگر ثبوت نہیں ہیں تو پھر حکومت کو اس قسم کے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس سے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس حوالے سے بی بی سی سے گفتگو میں متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر سید طاہر حسین مشہدی نے بتایا کہ وزیراعظم کے مشیر نے یہ کہا ہے کہ بھارتی مداخلت کے الزامات جھوٹے نہیں ہیں تاہم انھوں نے یہ دستاویزات اراکین کو فراہم نہ کرنے کی وجہ یہی بیان کی کہ اس سے اس میں موجود ذرائع خطرے میں پڑ جائیں گے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ حکومتی مشیر نے یقین دہانی کروائی ہے کہ جب بات آگے بڑھے گی تو ثبوت بھی فراہم کیے جائیں گے لیکن کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔

اسی بارے میں