دھیمے مزاج کی غیر متنازع شخصیت

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption امین فہیم نے سنہ 1958 میں سندھ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور سنہ 1970 سے عملی سیاست میں قدم رکھا

پاکستان کے سینیئر سیاست دان مخدوم امین فہیم تمام جماعتوں کے لیے اپنے دھیمے مزاج اور گہری شخصیت کی وجہ سے غیر متنازع شخصیت تھے لیکن اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی میں بینظیر بھٹو کی وفات کے بعد وہ یہ مرتبہ گنوا بیٹھے تھے۔

مخدوم امین فہیم تین مرتبہ وزراتِ عظمیٰ کی کرسی کے قریب پہنچے لیکن کبھی سیاسی وفاداری تو کبھی پارٹی قیادت کی وجہ سے وہ اس پر برا جماں نہ ہوسکے۔ جنرل (ریٹائرڈ) ضیاالحق کے دور میں انھیں یہ پیشکش ہوئی، اس کے بعد جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے بھی یہ آفر کی لیکن مخدوم خاندان نے دونوں بار اس کو مسترد کیا۔

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما مخدوم امین فہیم انتقال کر گئے

بینظیر بھٹو کی وفات کے بعد جب یہ اعلان ہوا کہ مخدوم وزیر اعظم بنیں گے تو سب کا خیال مخدوم امین فہیم کی جانب تھا لیکن آصف علی زرداری کی زیرِ قیادت مخدوم یوسف رضا گیلانی کو اس منصب کے لیے نامزد کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری سے مخدوم خاندان نالاں رہا اور اس عرصے میں بعض حلقوں نے مخدوم امین فہیم کی شخصیت کو متنازع بنادیا، جس میں یہ الزامات بھی عائد کیے گئے کہ بینظیر کی وفات سے پہلے اور بعد میں وہ جنرل (ریٹائرڈ) مشرف کے ساتھ رابط میں رہے اور یہ بھی خبریں سامنے آتی رہی کہ ان کی قیادت میں فارورڈ بلاک بنایا جارہا ہے لیکن ساری افواہیں وقت کے ساتھ دم توڑ گئیں۔

مخدوم امین فہیم کی پیدائش 4 اگست سنہ 1939 کو ہالا میں ہوئی، ان کے والد مخدوم طالب مولیٰ کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے بانیوں میں ہوتا ہے، پارٹی کا پہلا کنونشن بھی ہالا میں منعقد کیا گیا تھا۔

مخدوم طالب المولیٰ طالب سرور نوح کے گدی نشین، سروری جماعت کے روحانی پیشوا اور شاعر تھے۔ انھیں جنرل (ریٹائرڈ) ضیاالحق کے دور حکومت میں کئی پیشکشیں ہوئیں لیکن انھوں نے پیپلز پارٹی میں رہنے کو ترجیح دی بعد میں ان کے بڑے فرزند اور سجادہ نشین مخدوم امین فہیم نے اس روایت کو والد کی نصیحت اور وصیت کے طور پر جاری رکھا۔

امین فہیم نے سنہ 1958 میں سندھ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور سنہ 1970 سے عملی سیاست میں قدم رکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بینظیر بھٹو کی خود ساختہ جلاوطنی کے دور میں ملک کے اندر سیاست دانوں اور عسکری قیادت سے رابطے کی ذمہ داری مخدوم امین فہیم پر عائد تھی، شاید یہ ہی اعتماد کا رشتہ تھا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز رجسٹرڈ کرائی گئی تو اس کی قیادت انھیں سونپی گئی

وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار ٹھٹہ کے حلقے سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اس کے بعد وہ مسلسل عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے رہے۔ جنرل (ریٹائرڈ) ضیاالحق کے دور حکومت میں جب خود پیپلز پارٹی کے لوگ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات میں شریک ہوئے مخدوم امین فہیم نے پارٹی قیادت کا ساتھ دیا اور انتحابات کا بائیکاٹ کیا۔

جب غلام مصطفیٰ جتوئی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے راہیں الگ کرکے نیشنل پیپلز پارٹی بنائی تو سندھ کے زمیندار اور بڑے خاندان ان کی جانب متوجہ ہوئے تو اس وقت مخدوم امین فہیم نے انھیں پاکستان پیپلز پارٹی میں ہی رہنے کے لیے قائل کیا۔

بینظیر بھٹو کی خود ساختہ جلاوطنی کے دور میں ملک کے اندر سیاست دانوں اور عسکری قیادت سے رابطے کی ذمہ داری مخدوم امین فہیم پر عائد تھی، شاید یہ ہی اعتماد کا رشتہ تھا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز رجسٹرڈ کرائی گئی تو اس کی قیادت انھیں سونپی گئی۔

مخدوم خاندان کی وجۂ شہرت اور اثر رسوخ صرف سیاست اور مرشد ہونے سے ہی نہیں بلکہ یہ علمی اور ادبی خاندان رہا ہے۔

مخدوم نوح اپنے دور کے مانے ہوئے عالم تھے جبکہ امین فہیم کے دادا امین محمد جن کی نسبت سے ان کا نام رکھا گیا ہے اعلیٰ پائے کے شاعر تھے۔ بڑے امین محمد کے دونوں بیٹے غلام حیدر اور محمد زمان طالب المولیٰ بھی مرشد کے ساتھ ساتھ علمی اور ادبی شخصیت کے طور پر ابھرے۔

مخدوم امین نے شاعری میں اپنے والد مخدوم طالب المولیٰ کی شاگردی اختیار کی، ان کے دو مجموعہ ہائے کلام شائع ہو چکے ہیں جن میں سے ایک مجموعہ ’پیغام‘ کو زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی۔

بی بی سی کو گذشتہ انتخابات میں ایک انٹرویو میں امین فہیم نے بتایا تھا کہ اب وہ شاعری نہیں کرپاتے کیونکہ وقت ہی نہیں ملتا لیکن دل ضرور چاہتا ہے۔

مخدوم امین فہیم حسن پرست تصور کیے جاتے تھے۔ انھوں نے چار شادیاں کیں، جن میں نامور گلوکارہ رونا لیلیٰ کی بہن دینا لیلیٰ بھی شامل ہیں، ان چار بیویوں میں سے ان کے چھ بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، جن میں سے بڑے فرزند مخدوم جمیل الزمان سیاست میں سرگرم ہیں جبکہ ایک بیٹا عقیل الزمان بیورروکریسی میں ہے۔

مخدوم امین فہیم کی زندگی زیادہ تر بے داغ رہی لیکن پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت میں ان پر کرپشن کے الزام عائد ہوئے اور ٹریڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر اداروں میں مالی بے ضابتگیوں پر ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے۔

زندگی کے آخری ایام میں پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مخدوم امین فہیم کی عیادت کے لیے پہنچے تھے، یہ تصویر سوشل میڈیا پر کافی سرگرم تھی جس میں امین فہیم بلاول سے محبت سے مل رہے ہیں اور ان کی آنکھوں میں چمک ہے اس تصویر کو کسی نے نانا سے نواسے تک برسوں کی وفاداری کا عنوان دیا تھا۔

اسی بارے میں