ضلع دیر میں’افغانستان سے 21 لاشوں کی آمد‘

Image caption مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ افراد افغاستان میں اتحادی افواج کی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں مقامی لوگوں کے مطابق گذشتہ تین دن میں 21 افراد کی میتیں لائی گئی ہیں۔

ان افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ افغانستان میں اتحادی افواج کی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ جمعرات کو 12 افراد کی لاشیں لائی گئیں جبکہ جمعہ کو 9 افراد کی لاشیں آئیں۔

مقامی افراد کے مطابق افراد کی اجتماعی نماز جنازہ تیمرگرہ میں ادا کی گئی جس کے بعد لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

ہلاک شدگان میں سے سات کا تعلق لوئر دیر، پانچ کا اپر دیر ، پانچ کا سوات اور دیگر کا تعلق شانگلہ اور بونیر سے بتایا گیا ہے ۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ چند روز پہلے افغانستان کے صوبہ خوست میں اتحادی اور نیٹو افواج نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں جس میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

ہلاک ہونے والے ان افراد کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں اور کچھ لاشیں انتہائی مسخ شدہ تھیں۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ افراد کس غرض سے افغانستان گئے تھے لیکن کچھ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں شدت پسند نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

سرکاری سطح پر اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں