’یورپ جانے والے تارکین وطن کی واپسی پر مذاکرات کامیاب‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی دستاویزات پر بیرون جانے والے پاکستانیوں کو ایمگریشن کے قوانین کے تحت ہی واپس بھیجا جائے

پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے تارکین وطن کی واپسی کے طریقۂ کار سے متعلق پاکستانی حکام اور یورپی یونین کے نمائندہ وفد کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔

یورپ سے غیرقانونی تارکین وطن کی واپسی کا معاہدہ ’معطل‘

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تارکین وطن کے بارے میں ایک واضح طریقہ کار طے کرنے کے لیے مذاکرات شروع کر دیے گئے ہیں جن کو جلد ہی حتمی شکل دی جائے گا۔

تارکین وطن کے معاملے پر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے یورپی یونین کے وفد کے سربراہ دمتریس ایورامُوپولوس نے کہا ہے کہ اُنھیں پاکستانی حکام کے تحفظات کا احساس ہے اور ان تحفظات کو دور کرنے کے لیے متعقلہ حکام سے بات چیت کے لیے پاکستان آئے ہیں۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات میں یورپی یونین کے وفد کے سربراہ نے واضح کیا کہ یورپی یونین کو دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی اور انسانی سمگلنگ کے ساتھ ساتھ اسلامو فوبیا کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے وفد کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں یورپی ملکوں سے ڈی پورٹ کیے جانے والے پاکستانیوں کو ایک واضح طریقہ کار طے کرنے کے بعد پاکستان واپس بھیجا جائے گا۔

یورپی یونین کے وفد سے ملاقات میں وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی دستاویزات پر بیرون جانے والے پاکستانیوں کو ایمگریشن کے قوانین کے تحت ہی واپس بھیجا جائے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ محض پاکستانیوں پر شدت پسندی کا الزام لگا کر واپس بھجوانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔

اُنھوں نے یورپی یونین کے نمائندے پر واضح کیا کہ چھ سال قبل یورپی یونین اورپاکستانی حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں سقم موجود ہیں اور جب تک ان کو دور نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس معائدے پر عمل درآمد معطل رہے گا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یورپی ملکوں سے آنے والے کسی بھی پاکستانی کو اس وقت تک واپس نہیں لیا جائے گا جب تک اس کے بیرون ملک میں شدت پسندی میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد فراہم نہیں کیے جاتے۔

اسی بارے میں