’ٹیکسٹائل کی ڈوبتی صنعت، ترجیح میٹرو اور موٹروے‘

Image caption پاکستان کی 55 فیصد برآمدات ٹیکسٹائل مصنوعات پر مشتمل ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کا علاقہ نشاط آباد کئی بڑی ٹیکسٹائل ملوں کا گھر ہے۔

ملوں کے آس پاس محلوں میں ایسے ہزاروں خاندان آباد ہیں جن کا روزگار پاکستان کی اس سب سے بڑی صنعت سے وابستہ ہے۔

ٹیکسٹائل صنعت کار حکومت سے ناراض کیوں؟

چند روز پہلے اسی آبادی میں محمد صغیر کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ محمد صغیر چار بچوں کے باپ ہیں اور قریب ہی چناب ٹیکسٹائل مل میں پیکنگ کا کام کرتے تھے۔

تقریباً ایک برس پہلے جب فیکٹری کا پروڈکشن یونٹ بند ہوا تو ان کا کام بھی ختم ہوگیا۔

صغیر کا مکان ان کی غربت کی ایسی تصویر کشی کر رہا تھا کہ ان سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ بیرونی دروازہ بالکل ٹوٹا ہوا تھا۔ دروازے پر لگے پردے میں جابجا چھید۔ صحن میں پرانے کپڑوں کا ایک ڈھیر لگا تھا اور صغیر کی اہلیہ شہناز کپڑے دھونے میں مصروف تھیں۔

صغیر نے بتایا ’حالات کتنے خراب ہیں آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ بچوں کے سکولوں سے نوٹس آیا ہے کہ تین مہینے کی فیس جمع کروائیں ورنہ سکول سے نام کٹ جائے گا۔ بھائی کے بیٹے کی شادی تھی۔ ہاتھ میں کرایہ بھی نہیں تھا کہ شرکت کر سکتا۔ چارپائیاں تک ٹوٹی ہیں۔ پیسہ ہو تو کوئی کام ہونا!‘

صغیر کی بیوی کی تو بات کرتے ہوئے آنکھیں بھر آئیں۔ انھوں نے بتایا کہ گھر میں سبزی ساتھ والوں سے 50 روپے ادھار لے کر خریدی ہے۔ ’بچے پہلے دوسروں کو اچھا کھاتے دیکھتے تھے تو ضد کرتے تھے۔ لیکن اب انھیں سمجھا دیا ہے کہ جب ہمارے پاس پیسے ہی نہیں تو اچھے کپڑے اور کھانا کہاں سے لائیں۔‘

صغیر اور شہناز کی طرح گذشتہ آٹھ برس میں ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ دس لاکھ افراد کم و بیش ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔

Image caption ٹیکسٹائل کی برآمدات کی صنعت بحران سے دوچار ہے

اقتصادی ترقی کے حکومتی دعوے اپنی جگہ لیکن پاکستان میں ٹیکسٹائل کی گرتی ہوئی صنعت کچھ اور ہی داستان بیان کر رہی ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق گذشتہ سہ ماہی میں ملک کی ٹیکسٹائل برآمدات میں 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

صغیر اور شہناز سے ملاقات کے بعد اس مل کا دورہ کیا جہاں صغیر ملازمت کر رہے تھے۔ مل اتنے وسیع و عریض رقبے پر واقع ہے کہ ایک مرتبہ دیکھ کر آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

چناب ٹیکسٹائل کے مالک محمد لطیف نے بتایا کہ انھوں نے 1975 میں اس کاروبار کی بنیاد رکھی اور 2006 تک انھیں کبھی نقصان نہیں ہوا لیکن 2007 کے بعد ملک میں توانائی کے بحران کی ایسی کیفیت پیدا ہوئی کہ اس برس انھیں اپنے پروڈکشن یونٹ کو ہی بند کرنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں 10 ہزار افراد بے روزگار ہوئے۔

Image caption صغیر اور شہناز کی طرح گذشتہ آٹھ برس میں ٹیکسٹائل کی صنعت سے جڑے دس لاکھ افراد کم و بیش ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں

’ کوئی بھی ملک جہاں صنعتیں بند ہو رہی ہوں وہ معاشی ترقی کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔ معیشت تو برباد ہو چکی ہے۔‘

ہفتے میں پانچ دن صرف چھ گھنٹے گیس کی دستیبابی کے باعث اس فیکٹری کو برآمدی آرڈر بروقت تیار کرنے میں اتنی دقت ہوئی کہ رفتہ رفتہ بیرون ملک سے آرڈر ملنا ہی بند ہوگئے۔

محمد لطیف کہتے ہیں کہ ’ایک تو بجلی اور گیس دستیاب نہیں اور جو ہے تو وہ خطے کے دوسرے ملکوں کی نسبت کئی گنا مہنگی ہے۔ لیکن حکومت کی اس طرف کوئی توجہ نہیں۔توجہ ہے تو پل اور سڑکیں بنانے پر۔‘

Image caption ’ کوئی بھی ملک جہاں صنعتیں بند ہو رہی ہوں وہ معاشی ترقی کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔ معیشت تو برباد ہو چکی ہے‘

توانائی بحران کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافے اور حکومت کی طرف سے مختلف ٹیکسوں کے نفاذ سے بھی خطے کے دوسرے ملکوں کی نسبت پاکستان میں کاروبار کرنے کے اخراجات بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر عامر فیاض کہتے ہیں کہ’بھارت چین اور بنگلہ دیش اپنی صنعت کو مراعات اور ڈیوٹی میں چھوٹ دے رہے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں اس صنعت پر مزید ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔‘

گذشتہ برس جنوری سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت یورپی منڈیوں تک رسائی کے لیے مراعات دی گئی تھیں جس سے ابتدائی طور پر پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو سہارا بھی ملا تاہم مجموعی طور پر برآمدات نہ بڑھ سکیں۔

عامر فیاض کے مطابق’جی ایس پی پلس کا پاکستان کو کافی فائدہ ہوا ہے۔ یورپی ملکوں کو پاکستانی برآمدات بڑھ گئی ہیں۔ اگر جی ایس پی پلس بھی نہ ہوتا تو پاکستان کی برآمدات 13 ارب ڈالر سے بھی کم رہ جاتیں۔ مستقبل میں کسی بھی وجہ سے پاکستان جی ایس پی پلس سٹیٹس برقرار نہ رکھ پایا تو یہ صنعت کے لیے بہت بڑا سانحہ ہوگا۔‘

یورپی یونین 2016 میں پاکستان کو جی ایس پی پلس کا ازسرنو جائزہ لے گا۔ جس کے بعد ہی اس رعایت کو جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ ہوگا۔

پاکستان کی 55 فیصد برآمدات ٹیکسٹائل مصنوعات پر مشتمل ہیں۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ ایک دہائی میں لگ بھگ سو فیصد کی رفتار سے ترقی کرنے والی خطے کے دوسرے ملکوں کی صنعتیں بین الاقوامی منڈی میں پاکستان کے رہے سہے حصے پر بھی قبضہ کر لیں گی۔

اسی بارے میں