عبدالباسط کی سزائے موت کے خلاف انسانی حقوق کےاداروں کی اپیل

Image caption ایمنسٹی کے مطابق پاکستان نے گذشتہ ایک برس کے دوران 299 افراد کو پھانسی کی سزا دی ہے

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے عبدالباسط کی پھانسی کی سزا کی مخالفت کی ہے جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان سزائے موت دینے والا بدترین ملک بن گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ بیان عبدالباسط نامی ایک معذور شخص کی پھانسی سے ایک دن پہلے منظرعام پر آیا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق پاکستان نے گذشتہ ایک برس کے دوران 299 افراد کو پھانسی کی سزا دی ہے۔

عبدالباسط سزائے موت کی سزا کے بعد جیل ہی میں فالج کے حملے کے شکار ہوگئے تھے اور ان کا نچلا حصہ بےجان ہوگیا تھا۔ وہ اب بھی چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔

عبدالباسط کی پھانسی کے بعد ملک میں موت کی سزا پانے والوں کی تعداد 300 ہوجائے گی۔

ایک مرتبہ پھر عبدالباسط کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں جن کے مطابق انھیں بدھ کو پھانسی پرلٹکایا جانا ہے جس کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے وزیراعظم نواز شریف کو ایک خط لکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ retrieve
Image caption عبدالباسط سزائے موت کی سزا کے بعد جیل ہی میں فالج کے حملے کے شکار ہوگئے تھے

اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ چند ماہ میں تیسری مرتبہ عبدالباسط کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے گئے ہیں جو کہ ’تشویشناک ہے۔‘

مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا طریقہ موجود نہیں جس کے تحت ملکی یا بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی بھی معذور شخص کو تختہ دار پر لٹکایا جاسکے۔ اور عبدالباسط کی پھانسی پر عملدرآمد کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔

عبدالباسط کی پھانسی پہلے بھی کئی بار اس تنازعے کی وجہ سے موخر ہوچکی ہے کہ ملک کے قانون میں معذور افراد کو پھانسی دینے کا طریقہ واضح نہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ 16 دسمبر کے بعد اتنی بڑی تعداد میں دی جانے والی پھانسیاں پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر ایک دھبہ ہیں۔

تنظیم کے ڈائریکٹر ڈیوڈ گرافتھس کے مطابق ’پاکستان میں جس تیزرفتاری سے پھانسیاں دی جارہی ہیں وہ انسانی حقوق اور سزائے موت کے خلاف عالمی رجحان کے منافی ہیں۔ اور اگر عبدالباسط کی پھانسی کو روک بھی دیا جائے تو بھی اوسطاً پاکستان میں روزانہ ایک شخص کو تختہ دار پر لٹکایا جارہا ہے۔‘

پاکستان میں 16 دسمبر سنہ 2014 کے پشاور سکول حملے کے فوراً بعد سزائے موت سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا گيا تھا۔ تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پھانسی پر لٹکائے جانے والے اکثر افراد دہشتگردی کے بجائے دوسرے جرائم میں ملوث تھے۔

اسی بارے میں