خستہ حال انجن، ٹرین ڈرائیورز کا احتجاج جاری

Image caption ڈرائیوروں کا دعویٰ ہے کہ کوئٹہ ڈویژن میں جتنے بھی انجن دستیاب ہیں ان کی بریکیں تسلی بخش نہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ٹرین ڈرائیوروں کا احتجاج جاری ہے جس کی وجہ سے ریل گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔

یہ احتجاج محکمہ ریلویز کوئٹہ ڈویژن کے پاس دستیاب خستہ حال انجنوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

بولان میں جعفر ایکسپریس کو حادثہ، 12 ہلاک

ٹرینوں کے ڈرائیوروں نے یہ احتجاج حال ہی میں کوئٹہ کے قریب مسافر ٹرین کو پیش آنے والے حادثے کے بعد شروع کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ انجنوں کی تبدیلی اور ان کی مرمت کے لیے اقدامات نہ ہونے کے باعث حادثات رونما ہو رہے ہیں۔

احتجاج کے باعث منگل کو بھی کوئٹہ سے پنجاب اور سندھ جانے والی دو ٹرینیں منزل مقصود کی جانب روانہ نہیں ہو سکیں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس سے قبل اتوار اور پیر کو بھی پانچ ٹرینیں منسوخ کی گئی تھیں۔

احتجاج کرنے والے ڈرائیوروں نے بتایا ہے کہ کوئٹہ ڈویژن میں ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے 12 انجن دستیاب ہیں جن میں سے زیادہ تر ناکارہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 17 نومبر کو بولان کے علاقے میں راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس خوفناک حادثے سے دوچار ہوئی تھی

ڈرائیوروں کا دعویٰ ہے کہ کوئٹہ ڈویژن میں جتنے بھی انجن دستیاب ہیں ان کی بریکیں تسلی بخش نہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں حالیہ چند برس کے دوران کئی ریل حادثے پیش آ چکے ہیں۔

رواں ماہ کی ہی 17 تاریخ کو کوئٹہ سے 60 کلومیٹر دور بولان کے علاقے میں راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس خوفناک حادثے سے دوچار ہوئی تھی اور اس حادثے میں 12 افراد ہلاک اور 100سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔

بلوچستان میں جیکب آباد سے کوئٹہ ، کوئٹہ سے ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان اور افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے علاوہ بعض دیگر علاقوں میں سینکڑوں کلومیٹر ریلوے لائن انگریزوں کے دور میں بچھائی گئی تھی ۔

ٹرینوں کی انجنوں کی طرح زیادہ تر علاقوں میں ریلوے لائن بھی خستہ حال ہے ۔

ناکارہ ٹرینوں اور لائن کے بارے میں محکمہ ریلویز کا موقف جاننے کے لیے ڈی ایس ریلویز کوئٹہ کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے حکام بالا کی اجازت کے بغیر بات کرنے سے معذرت کر لی۔

اسی بارے میں