آصف زرداری ایس جی ایس اور کوٹیکنا ریفرنسز میں بری

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو ایس جی ایس اور کوٹیکنا ریفرنسز میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا ہے۔

عدالت نے ان دونوں ریفرنسز میں فیصلہ 11 نومبر کو محفوظ کر لیا تھا جو منگل کو سنایا گیا۔

اے آر وائی گولڈ اور اُسس ٹریکٹر کیس میں زرداری بری

آصف علی زرداری پولو گراونڈ ریفرنس میں بری

سابق صدر کے خلاف یہ دونوں ریفرنس سنہ 1998 میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم نواز کے دوسرے دور حکومت میں بنائے گئے تھے اور ان پر دونوں مقدمات میں’ کک بیکس‘ لینے کا الزام تھا۔

اس ریفرنس میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور سینٹرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین آے ار صدیقی کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

بےنظیر بھٹو کی سنہ 2007 میں ہلاکت کے بعد اُن کا نام اس ریفرنس سے خارج کر دیا گیا تھا جبکہ اے ار صدیقی کے خلاف اس ریفرنس میں عدالتی کارروائی عمل میں لائی گئی جس کے بعد اُنھیں اس مقدمے سے بری کر دیا گیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے ان ریفرنس میں اپنے موکل کی بریت کے لیے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اُن کے موکل کے خلاف سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ریفرنس دائر کیے گئے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہوکہ آصف علی زرداری نے مذکورہ کمپنیوں کو ٹھیکے دینے میں کوئی کک بیکس بھی وصول کی ہے۔

فاروق ایچ نائیک کا موقف تھا کہ قومی احتساب بیورو کے پاس اصل دستاویزات کی اصل کاپی بھی موجود نہیں ہے جس پر عدالت نے نیب کو اصل دستاویزات پیش کرنے کو کہا تاہم احتساب بیورو کے حکام نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

قومی احتساب بیورو نے آصف علی زرداری کو بطور صدر حاصل استثنیٰ ختم ہونے کے بعد اُن کے خلاف ریفرنسز دوبارہ کھولنے کے لیے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

اس پر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پانچ ریفرنس میں اُن پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے آصف علی زرداری کو طلب کیا تھا۔

تاہم اُن کے وکیل نے پانچوں ریفرنسز میں بریت کی درخواست دی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے پہلے مرحلے میں اے آر وائی، پولو گراؤنڈ اور اُرسس ریفرنس میں سابق صدر کو بری کر دیا تھا جبکہ منگل کے روز ایس جی ایس اور کوٹیکنا ریفرنس میں انھیں بری کر دیا گیا۔

اب آصف زرداری کے خلاق آمدن کے معلوم ذرائع سے زیادہ جائیداد بنانے کے اثاثہ جات ریفرنس راولپنڈی کی احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے۔

اسی بارے میں