ڈاکٹر عاصم پر دہشت گردی کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کراچی میں سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

مقدمے میں ان پر پولیس مقابلے میں زخمی ہونے والے ایم کیو ایم اور لیاری امن کمیٹی کے کارکنوں کے علاج کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ناظم آباد تھانے پر رینجرز کے سپرنٹینڈنٹ محمد عنایت اللہ درانی کی مدعیت میں یہ مقدمہ 25 نومبر کو درج ہوا ہے جس میں مدعی نے موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ حکومت کی منظوری سے جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

اس ٹیم کے روبرو ڈاکٹر عاصم حسین نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے اپنے ڈاکٹر ضیاالدین ہپستال واقع نارتھ ناظم آباد اور کلفٹن برانچ میں لیاری گینگ وار، جہادی تنظیموں اور متحدہ قومی موومنٹ کے زخمی دہشت گروں اور مجرموں کو جوپولیس اور رینجرز کے مقابلوں میں زخمی ہوتے تھے علاج کی سہولت فراہم کیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر عاصم جانتے ہوئے بھی خلاف قانون ملزمان کا رعایتی علاج معالجہ کیا اور یہ وہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں رؤف صدیقی، وسیم اختر، سلیم شہزاد اور انیس قائمخانی کے کہنے پر کرتے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل لیاری گینگ وار کے دہشت گردوں کے علاج کے لیے فون کرتے تھے، اس کے علاوہ قانون شکنی کرتے ہوئے علاج کے بہانوں سے مفرور ملزمان دہشت گردوں کو اپنے ہسپتال میں پناہ دی۔

ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر عاصم نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پی ایس او اور سوئی سدرن گیس کمپنی میں بطور ایڈمنسٹریٹر ناجائز پیسہ لے کر بھرتیاں کیں اور من پسند لوگوں کو رشوت لے کر ٹھیکے دیے۔

رینجرز سپرنٹینڈنٹ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ملزم عاصم حسین کی ان مجرمانہ سرگرمیوں کے تحت ان کے اور دیگر شریک جرم ساتھیوں پر قائم کیا جائے۔ پولیس نے اس درخواست کو ایف آئی آر میں تبدیل کردیا ہے۔

یاد رہے کہ ایف آئی آر میں نامزد رکن قومی اسمبلی وسیم اختر کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کے میئر کے لیے نامزد امیدوار ہیں، اس سے قبل وہ کراچی میں محکمہ داخلہ کے مشیر بھی رہے چکے ہیں۔

کراچی میں 26 اگست کو سندھ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے دفتر سے سادہ کپڑوں میں اہلکاروں نے ڈاکٹر عاصم کو حراست میں لیا تھا۔

رینجرز نے ڈاکٹر عاصم کو 24 گھنٹوں کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سلیم رضا بلوچ کی عدالت میں پیش کیا اور آگاہی دی کہ انہیں 90 روز کے لیے حراست میں رکھا گیا۔

اس تحریری آگاہی میں ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ان سے تفتیش کی جائے گی۔ تقریباً تین ماہ کے بعد ان پر یہ باضابطہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں