عبدالباسط کی سزائے موت پر عملدرآمد ملتوی، جسمانی حالت کی انکوائری کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جیل حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ عبدالباسط کو ویل چیئر پر ہی پھانسی گھاٹ تک لے جائیں گے

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے فیصل آباد کی جیل میں سزائے موت کے منتظر معذور قیدی عبدالباسط کی پھانسی پر عمل درآمد کو دو ماہ کے لیے روکنے کا حکم دیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ممنون حسین نے یہ احکامات عبدالباسط کی معذوری کو مدنظر رکھتے ہوئے دیے ہیں۔

جب بارش نے عبدالباسط کی پھانسی ملتوی کروائی

قواعد خاموش، معذور قیدی کی پھانسی ملتوی

عبدالباسط کی سزائے موت کے خلاف انسانی حقوق کے اداروں کی اپیل

صدر نے ان کی جسمانی حالت کے حوالے سے انکوائری کا حکم بھی دیا ہے۔

ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کو ہر قیمت پر مقدم رکھا جائے گا۔

صدر مملکت کے احکامات کے بعد معذور قیدی عبدالباسط کی سزائے موت پر عملدرآمد کو چوتھی بار روک دیا گیا ہے۔

اس سے قبل چلنے پھرنے سے قاصر سزائے موت کے قیدی عبدالباسط کو 22 ستمبر کی صبح پھانسی دی جانی تھی تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سیشن کورٹ فیصل آباد کے مجسٹریٹ دلشاد ملک نے بتایا تھا کہ ’معذور شخص کو پھانسی دیے جانے پر رولز خاموش ہیں۔ پھانسی دینے کے لیے قیدی کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہونا چاہیے تاہم عبدالباسط معذور ہیں، اس لیے ان کی پھانسی کو عارضی طور پر ملتوی کرتے ہوئے حکومت سے رائے لی جائے گی۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے عبدالباسط کی سزا پر عمل درآمد روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

43 سالہ عبدالباسط کو 2009 میں گھریلو تنازعے پر ایک شخص آصف ندیم کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

فیصل آباد کی ایک عدالت نے انھیں 29 جولائی کو پھانسی دینے کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے تھے۔

مجرم کے وکلا کا موقف ہے ملکی قانون کے کسی مطابق معذور شخص کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔

اسی بارے میں