کراچی میں ویب ٹی وی کے دفتر میں آتشزدگی

تصویر کے کاپی رائٹ gawahi.tv
Image caption گواہی ٹی وی کی نشریات فروری 2013 سے ویب اور کیبل کے ذریعے علاقے میں جاری ہیں

کراچی میں ایک مسیحی برادری کے ویب ٹی وی کے دفتر میں آتشزدگی کی وجہ سے نشریات میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر اور دیگر سامان متاثر ہوا ہے، انتظامیہ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ واقعہ تخریب کاری کا نتیجہ ہوسکتا ہے تاہم پولیس اسے حادثہ قرار دے رہی ہے۔

یہ واقعہ شہر کے علاقے اختر کالونی میں پیش آیا ہے، جہاں گواہی نامی ویب چینل کا دفتر ایک رہائشی عمارت میں موجود تھا۔ آگ کی وجہ سے کمپیوٹر، مذہبی رسالے اور عیسائیوں کی مقدس کتاب بائبل کو نقصان پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ gawahi.tv
Image caption ٹی وی انتظامیہ نےاس واقعے کو تخریب کاری کا نتیجہ قرار دیا ہے

گواہی ٹی وی کے ڈائریکٹر سرفراز ولیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کو تخریب کاری کا نتیجہ قرار دیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ منگل کی شب ڈھائی بجے کے قریب انھیں دفتر سے ٹیلی فون آیا تھا جب وہ وہاں پہنچے تو عمارت سے شعلے نکل رہے تھے جبکہ اوپر کی منزل پر رہائشی عیسائی خاندان کو سیڑھی کی مدد سے باہر نکالا گیا۔

سرفراز ولیم کا دعویٰ تھا کہ اُن کے کام کو ارادتاً بند کرانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ ’کمپیوٹرز اور ڈیٹا پر کیمیکل پھینکا گیا ‘ہے جس سے وہ ناکارہ ہوچکے ہیں جبکہ قریب لکڑی کا سامان موجود ہے جس کو نقصان نہیں پہنچا اس لیے وہ اس کو تخریب کاری سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ghawai
Image caption فارنزک ٹیسٹ کرانے کے لیے نمونے لیبارٹری میں بھیج دیے گئے ہیں

’ماضی میں بھی بعض شدت پسند عناصر دھمکیاں دیتے رہے ہیں کہ یہ کام بند کرو لیکن ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا کہ جس کی وجہ سے دفتر منتقل کیا جائے۔‘

دوسری جانب پولیس نے تخریب کاری کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ کو قرار دیا ہے۔

ایس ایچ او محمود آباد سرور کمانڈو کے مطابق گواہی کا دفتر ایک رہائشی عمارت کے محض دو کمروں پر مشتمل ہے اور ابتدائی تفتیش میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ آگ لگائی گئی ہو۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور فائر بریگیڈ کی جانب سے معلومات فراہم کرنے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ معلوم ہو سکے گی۔ تاہم فارنسک ٹیسٹ کرانے کے لیے نمونے لیبارٹری میں بھیج دیے گئے ہیں جس کی رپورٹ ایک سے دو روز میں آجائے گی جس کے بعد صورتحال مزید واضع ہوسکے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ gawahi.tv
Image caption گواہی ٹی وی کی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کو بھی شامل کیا جائے

پولیس کے مطابق چینل مالکان کی جانب سے کسی پہ شبہ ظاہر نہیں کیا گیا اور اس سے قبل بھی کسی دھمکی کی شکایت نہیں کی گئی اور انتظامیہ نے تاحال مقدمہ درج نہیں کرایا ہے۔

تاہم گواہی ٹی وی کے ڈائریکٹر سرفراز ولیم کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ محمود آباد تھانے میں درج کرادیا گیا ہے ان کی کوشش ہے کہ اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ بھی شامل کیا جائے کیونکہ اس واقعے میں مسیحی برادری کی مقدس کتاب کو بھی جلایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گواہی کی نشریات فروری 2013 سے ویب اور کیبل کے ذریعے علاقے میں جاری ہیں۔ سرفراز ولیم کے مطابق نشریات میں مسیحی برادری کی مذہبی عبادت اور پیغامات شامل ہے۔

اسی بارے میں