’جبری طور پر مذہب کی تبدیلی جرم قرار دی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت پورے ملک میں ہندوؤں کی آبادی 80 لاکھ کے قریب ہے

پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں غیر مسلموں بلخصوص ہندوؤں کو جبری طور پر مسلمان کر کے اُن سے شادیاں کرنے کی شکایات مل رہی ہیں۔

انسانی حقوق کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں تجویز دی گئی ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے بغیر مذہب تبدیل کرنے کے اقدام کو جرم تصور کیا جائے اور حکومت کو اس بارے میں قانون سازی کرے۔

’سالانہ پانچ ہزار ہندو پاکستان چھوڑ رہے ہیں‘

سینیٹر نسرین جلیل کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے یہ شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ غیر مسلموں بلخصوص ہندوؤں کو اُن کی مرضی کے بغیر مسلمان کرکے اُن سے شادیاں کی جا رہی ہیں جبکہ ذمہ داروں کے خلاف صرف اس لیے کارروائی نہیں ہو رہی کہ اس بارے میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار نہیں دیا کیونکہ اُن کی نظر میں ایسا کوئی شخص اُن کے پاس نہیں آیا جس نے کہا ہو کہ اسے جبری طور پر مذہب اسلام اپنانے پر مجبور کیا گیا ہے۔

رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رامیش کمار نے جنھیں خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی تھی، کہا کہ پاکستان کے آزاد ہونے کے بعد سے اب تک ملک میں ہندوؤں کی شادیاں رجسٹرڈ نہیں ہو رہیں تو ایسے میں زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین کیسے بنیں گے؟

اُنھوں نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں ہندوؤں کی آبادی 80 لاکھ کے قریب ہے لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ برابری کا سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔

رامیش کمار نے کہا کہ ’ان کی برادری کے ساتھ سب سے برا سلوک صوبہ خیبر پختونخوا میں کیا جاتا ہے جہاں ہر اُنھیں کافر لکھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس سب سے اچھا سلوک صوبہ بلوچستان کے عوام اُن کی برادری کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔‘

سینیٹر کبیر خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے قبائلی جرگہ سسٹم میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ اگر کسی مسلمان کو قتل کریں گے تو اس کے بدلے میں ایک شخص کا خون بہا دینا پڑے گا اور اگر کسی ہندو کو قتل کرو گے تو سات بندوں کا خون بہا دینا پڑے گا۔

ہندو میرج ایکٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان سے ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد نے بھارت ہجرت بھی کی ہے

سینیٹر کبیر خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بگھوان داس نے ہندو میرج ایکٹ میں ترمیم کے لیے کچھ تجاویز دی تھیں جن کے بارے میں سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ اس بارے میں قانون سازی کرے لیکن عدالتی احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

رامیش کمار کا کہنا تھا کہ وزارت قانون نے اس بارے میں قومی اسمبلی میں جو بل پیش کیا ہے وہ اُن احکامات کے بالکل برعکس ہے جو سپریم کورٹ نے دیے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک ہندو میرج ایکٹ کا بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے پاس ہی پڑا ہے۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں مجرم ممتاز قادری کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں توہین مذہب کے قانون پر نظرثانی اور تعلیمی نصاب میں تبدیلی سے متعلق جو احکامات دیے تھے اس بارے میں وزارت قانون کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ نہیں دی جس پر کمیٹی کے ارکان نے برہمی کا اظہار کیا۔

سینیٹر اعتراز احسن کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد حکومت کی ذمہ داری ہے جسے نبھانے میں غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزارت قانون توہین مذہب میں ممکنہ ترامیم سے متعلق تجاویز کو بھی اجلاس میں پیش کرے۔

اسی بارے میں