’50 برس کی مشقت لیکن مشکلات جوں کی توں ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بلوچاں والا کی مقصودہ مائی کا دن ہر صبح فجر کی نماز سے پہلے ہی شروع ہوجاتا ہے۔

جلدی جلدی گھر کا کام نمٹا کے وہ ایک بڑی سی چادر اپنے اردگرد لپیٹ کر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی کھیتوں کا رخ کرتی ہیں تاکہ کپاس کی چنائی شروع کر سکیں۔

جوں جوں سورج نکلتا ہے گرمی کی وجہ سے مقصودہ کا کام مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ پنجاب اور سندھ کے دیہات کی ہزاروں عورتوں کی طرح بچپن سے کپاس کی چنائی کا کام کر رہی ہیں، لیکن 50 برس کی اس مشقت سے بھی مقصودہ کے گھر کے حالات پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ نہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکیں اور نہ ہی اچھا کھانا۔

’میں کوئی پڑھی لکھی نہیں کہ کوئی مجھے دفتر میں نوکری دے اور میں آرام سے بیٹھ کر کماؤں کھاؤں اور پیوں۔ میں تو فصلوں کا کام کر سکتی ہوں۔ کبھی سو کی دیہاڑی لگی تو کبھی 50 کی۔‘

Image caption مقصودہ کو مستقبل سے کوئی غرض نہیں انھیں فکر ہے تو بس اس کی کہ خراب فصل کے ساتھ روز کی روٹی کیسے پوری ہوگی

پاکستان میں اس برس کپاس کی پیداوار توقع سے کم ہوئی۔ فصل بہتر نہ ہونے سے کسانوں اور ملکی معیشت پر تو جو منفی اثرات مرتب ہوں گے وہ اپنی جگہ۔ فصل ٹھیک نہ ہونے سے سب سے زیادہ مشکل مقصودہ اور ان کی طرح کی پانچ لاکھ خواتین کو ہے جن کا روزگار کپاس کی چنائی سے وابستہ ہے۔

کپاس کی چنائی کا کام روایتی طور پر خواتین ہی کرتی ہیں۔ سخت دھوپ میں سات گھنٹوں کی مشقت اور ایک کلو کپاس چننے کا معاوضہ سات روپے ہے۔

Image caption کپاس کی چنائی کا کام روایتی طور پر خواتین ہی کرتی ہیں

گذشتہ برس کپاس چننے والی خواتین دن میں اوسطاً 30 سے 35 کلو تک کپاس چن لیتی تھیں لیکن اس برس خراب فصل کی وجہ سے بات 20 کلو سے آگے نہیں بڑھی۔

چونکہ کپاس چننے والی خواتین کی آمدنی کا انحصار چنی ہوئی کپاس کے وزن پر ہوتا ہے تو کم کپاس کا مطلب ہے کم معاوضہ۔

محمد ثنا اللہ اس زمین کے مالک ہیں جہاں مقصودہ اور درجن بھر اور خواتین کپاس کی چنائی کر رہی ہیں۔ثنا اللہ کو شدید دھوپ میں کی جانے والی اس مشقت کا احساس تو ہے لیکن وہ انھیں بہتر معاوضہ نہیں دے سکتے۔

ثنا اللہ کہتے ہیں کہ ’حکومت ہر سال کپاس کا ریٹ نکالتی ہے۔ اس میں تاجر برادری کا اپنا اتحاد ہے، فیکٹری والے اپنی مرضی کا ریٹ مقرر کرواتے ہیں۔ جب وہ ریٹ آتا ہے تو کپاس کی چنائی کی مزدوری طے ہوتی ہے۔ حکومت کسانوں سے تعاون نہیں کرتی، بیج سپرے، کھاد اور خرچہ اتنا زیادہ ہے کہ ہمیں خود بھی خاص آمدنی نہیں ہوتی۔ تو ہماری مجبوری ہے کہ ان خواتین کو بھی کم معاوضہ ادا کریں۔‘

Image caption حکومت ہر سال کپاس کا ریٹ نکالتی ہے۔ اس میں تاجر برادری کا اپنا اتحاد ہے، فیکڑی والے اپنی مرضی کا ریٹ مقرر کرواتے ہیں

تاہم مسئلہ صرف کم معاوضے کا نہیں، شدید دھوپ، فصل پر کیے جانے والے سپرے اور چنائی کے دوران مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث ان خواتین کو صحت کے خطرات کا سامنا بھی رہتا ہے، لیکن کوئی اور ہنر اور مواقعے نہ ہونے کے باعث ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں۔

مقصودہ کا کہنا ہے : ’میں بہت تھک جاتی ہوں میرے ہاتھ زخمی ہیں میرے جسم میں ہر وقت درد رہتا ہے اور کبھی سانس لینے میں بھی دشواری محسوس ہوتی ہے۔ بس گھر جا کے میں چائے کے ساتھ ابلا ہوا انڈا اور سردرد کی گولی لیتی ہوں اور صبح پھر کام پر آ جاتی ہوں۔‘

مقصودہ کے گاؤں کی 18 سالہ شازیہ یہ سمجھتی ہیں کہ تعلیم ہی انھیں غربت سے باہر نکال سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کپاس چننے کے ساتھ وہ اب تک اپنی پڑھائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

’میری امی اور بہنیں سب کپاس چنتی ہیں۔ میرے علاوہ کسی نے پڑھائی نہیں کی۔ میری ماں نے مجھے بھی بہت مشکل سے پڑھایا ہے۔ میڑک کے بعد میں نے کپاس چن کر اپنی فیس ادا کی اور اب انٹر کر لیا ہے۔ اب یہ کام کرنے کو میرا دل نہیں چاہتا۔ میں ایم اے انگلش کر کے نوکری کروں گی تاکہ میری ماں آرام کر سکے۔‘

شازیہ کی دوہری جدوجہد علاقے کی عورتوں کی لیے یقیناً امید کی ایک کرن ہے لیکن مقصودہ کو مستقبل سے کوئی غرض نہیں انھیں فکر ہے تو بس اس کی کہ خراب فصل کے ساتھ روز کی روٹی کیسے پوری ہوگی۔

Image caption بی بی سی نے اپنے سنہ 2015 کے ’100 خواتین‘ سیزن کے لیے دنیا بھر سے، زندگی کے تمام شعبوں اور عمر کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کا انتخاب کیا ہے جو دیگر خواتین کے لیے زندگی میں باعثِ تحریک ہیں

اسی بارے میں