ریلی نکالنے پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کی ریلی کا رُخ رینجرز ہیڈکواٹرز کی جانب تھا تاہم اسے مزار ِ قائد کے قریب نمائش چورنگی پر روک لیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پولیس نے بلااجازت ریلی نکالنے پر متحدہ قومی موومنٹ کے نو رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ سولجر بازار تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عاصم پر دہشت گردی کا مقدمہ

قومی اسمبلی میں واپسی سے قبل ڈی جی رینجرز سے ملاقات

گھر واپسی مگر ناراضگی برقرار

ایم کیو ایم نے جمعرات کو رینجرز کی جانب سے اپنے دفاتر پر چھاپوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی تھی۔

اس ریلی جس کا رُخ رینجرز ہیڈکواٹرز کی جانب تھا تاہم اسے مزار ِ قائد کے قریب نمائش چورنگی پر روک لیا گیا تھا اور انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد ایم کیو ایم کے رہنما اور کارکنان وہیں سے منتشر ہوگئے تھے۔

ریلی کے دوران ایم کیو ایم کے کچھ کارکنان نے وہاں لگائی گئی رکاوٹیں عبور کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن ایم کیو ایم کی قیادت نے انہیں روک لیا تھا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ریلی کے خاتمے کے بعد جمعرات کی شب سولجر بازار پولیس نے سرکاری مدعیت میں فاروق ستار، حیدر عباس رضوی، وسیم اختر، رؤف صدیقی اور فیصل سبزواری سمیت نو مرکزی رہنماؤں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ پانچ دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی مہم روکنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے

اس ایف آئی آر میں ان افراد پر لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی، سڑک بند کرنے اور عوام کو تکلیف پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مقدمے میں سینکڑوں نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے جو اس ریلی کا حصہ تھے۔

خیال رہے کہ ریلی کے دوران بی بی سی کے حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ پانچ دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی مہم روکنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور ان کے دفاتر پر چھاپے بھی اسی مہم کا حصہ ہیں۔

انھوں نے الزام لگایا کہ رینجرز نے گذشتہ روز بھی کورنگی سیکٹر آفس سے جن لڑکوں کو حراست میں لیا ان پر کوئی الزام نہیں۔

فاروق ستار کے مطابق کئی افراد کو حراست میں لے کر کچھ دن بعد چھوڑ دیا جاتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حراست کسی ٹھوس الزام کے بغیر ہوئی تھی۔

اسی بارے میں