’ہندو میرج ایکٹ کو صوبائی معاملہ قرار دینا تاخیر کا باعث‘

Image caption سینیٹ کی کمیٹی برائے قانون وانصاف نے جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کو جرم قرار دینے کی تجویز دی ہے

پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کی شادی کی رجسٹریشن سے متعلق ہندو میرج ایکٹ کو صوبائی معاملہ قرار دینے کی وجہ سے قومی اسمبلی سے قانون کی منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔

جمعے کو اسلام آباد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش نے کہا کہ ہندو میرج ایکٹ کا مسودہ قومی اسمبلی کی قائمہ کیمٹی برائے انصاف سے منظور ہو چکا ہے۔

پاکستان میں ہندوؤں کی شادی کی رجسٹریشن کا معاملہ طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔

پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا ہے کہ آئین کے دفعہ 144 کے تحت اگر صوبائی اسمبلیاں کسی قانون کے حق میں قرارداد منظور کریں تو قومی اسمبلی صوبائی معاملے پر بھی ایسا قانون پاس کر سکتی ہے جس کا اطلاق پورے ملک پر ہو۔

’ہندو کیمونٹی چاہتی ہے کہ میرج ایکٹ کا قانونی صوبائی اسمبلیوں کے بجائے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان نظریاتی کونسل نے بھی ہندو میرج ایکٹ کے قانونی مسودے کی منظوری دے دی ہے اور جب تک شادیاں رجسٹرڈ نہیں ہوں گی اُس وقت تک جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کو کم نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘

صوبہ سندھ اور جنوبی پنجاب میں ہندو اقلیت سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی لڑکیوں کو اغوا کر کے جبری طور پر مذہب کی تبدیل کر کے شادی کرنے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔

یاد رہے کہ سینیٹ کی کمیٹی برائے قانون وانصاف نے جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کو جرم قرار دینے کی تجویز دی ہے۔

ڈاکٹر رمیش کا کہنا ہے کہ ’پہلے ہندوؤں کی شادی کی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی ہو جائے اُس کے بعد جبری طور مذہب کی تبدیلی کے معاملے پر بھی قانون سازی کی کوشش کی جائےگی۔‘

’میں تو ہندو میرج ایکٹ کی منظوری کے لیے کب سے کوشش کر رہا ہوں۔ کبھی سپریم کورٹ جاتا ہوں تو کبھی اسلامی نظریاتی کونسل لیکن ابھی تک قانون سازی مکمل نہیں ہو سکی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں ہندوؤں کی شادی کی رجسٹریشن کا معاملہ طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے

اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور پاکستان علما کونسل کے چیرمین علامہ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ہندو میرج ایکٹ کے مسودے پر اپنی تجاویز دیں ہیں لیکن تاخیر پارلیمنٹ میں ہو رہی ہے۔

جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ اسلام جبر کی اجازت نہیں دیتا ہے اور مذہب تبدیل کروا کر شادی کرنے کا معاملے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان علما کونسل نے بھی جبری طور پر مذہب کو تبدیل کروانے کو جرم قرار دینے کے لیے تحریری تجاویز حکومت کو دی ہیں۔‘

اسلامی نظریاتی کونسل کی رکن سمیہ راحیل قاضی کا کہنا ہے کہ جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کے معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’جبر اور زبردستی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ وڈیرا شاہی اور دہشت گردی کا شاخسانہ ہے۔‘

اسی بارے میں