ناروے سے غیر قانونی پاکستانیوں کی واپسی میں تیزی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یورپی ملک ناروے نے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے بے دخل کرنے کے لیے نئے اور سخت قوانین متعارف کروائے ہیں جن کے تحت وہاں غیر قانونی طور پر رہنے والے پاکستانیوں کو ملک سے نکالنے کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں ناروے کے سفارتخانے کے مطابق اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد سے تیس کے قریب پاکستانی حالیہ دنوں میں پاکستان واپس بھیجے جا چکے ہیں۔

ناروے کی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے اس نئے قانون کے تحت پولیس کو ان افراد کو حراست میں لینے کا اختیار دے دیا گیا ہے جن کے بارے میں یہ تاثر ہو کہ ان کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

اس نئے قانون کے اجرا کی وجہ بتاتے ہوئے ناروے کے سفارتخانے میں تارکین وطن (امیگریشن) کے اتاشی توربن کلاند نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں تارکین وطن پہنچ رہے ہیں کہ ان سے نمٹنے کے لیے ناروے کے وسائل ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔

’ہمیں اس وقت ایک بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ بہت بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن ہمارے ملک میں آ رہے ہیں اور سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔ یہ سب ہمارے نظام کی استعداد سے بہت زیادہ ہے۔‘

ناروے کے اتاشی کا کہنا تھا کہ ناورے پہنچنے والے پاکستانیوں نے سیاسی پناہ کے لیے اس سال اب تک چار سو سے زائد درخواستیں جمع کروائی ہیں جو پچھلے سال سے چار گنا زیادہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ زیادہ تر پاکستانی ناروے میں روسی سرحد کی جانب سے داخل ہو رہے ہیں جہاں اب برف باری کے باعث حالات زیادہ موافق نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو وطن واپس بھیجا جا سکتا ہے کیونکہ ناروے میں تارکین وطن کے قانون میں ترامیم کر کے اسے مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت روس یا کسی دوسرے ملک سے ناروے پہنچنے والے پاکستانیوں کی پناہ کی درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔

مسٹر کلاند نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بھی ناروے نے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے ایک نئے معاہدے پر مشاورت مکمل کر لی ہے جس کے تحت زیادہ تیزی کے ساتھ پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجا جا سکے گا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے علم میں ہے کہ ناروے سے بیدخل کیے جانے والے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے طریقہ کار پر پاکستان کو اعتراض ہے۔

’ہمیں یقین ہے کہ نیا طریقہ کار اس بارے میں زیادہ محفوظ اور تیز رفتار ہے، اسی لیے پاکستانی حکومت نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے۔

ناروے کے اتاشی کا کہنا تھا کا کہ پاکستانیوں کی واپسی کا یہ نظام بہت جلد نافذ ہو جائے گا۔

اسی بارے میں