’ہم چُپکے سے جیت جائیں گے‘

Image caption پارٹی کا سُرخ و سفید جھنڈا تھامے شبانہ رُوبن کا خیال ہے کہ اگر وہ کسی بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ ہوتیں تو اُنھیں ایسا موقع کبھی نہ ملتا

اسلام آباد کی شبانہ رُوبن نے اپنی انتخابی مہم کا اختتام رائے دہندگان کو ایک فلم دکھا کر کیا ہے جو کچی آبادیوں کی فلاح و بہبود کے متعلق ہے۔

کُھلی فضا میں سینما کا ماحول پاکستانی دارالحکومت کی فرانس کالونی میں بنا۔ مہنگے ترین علاقوں میں سے ایک سیکٹر ایف سیون اور بلیو ایریا کی بلندو بالا عمارتوں کے بیچ آباد کالونی شہر کے مُفلس ترین طبقے کا مسکن ہے۔

شبانہ رُوبن وہیں رہتی ہیں اور بلدیاتی انتخابات میں سب سے بڑی نشست چیئرمین کی امیدوار ہیں۔ ہاؤس وائف ہیں اور ان کا تعلق عیسائی مذہب سے ہے۔

اُن کے ہمراہ وائس چیئرمین کی امیدوار آمنہ مواز خان ہیں، جو مسلم ہیں اور ایک سماجی کارکن ہیں۔ وہ ایف ایٹ سیکٹر کے خوشحال طبقے سے ہیں۔ کلاسیکی رقص میں مقبول گِنی چُنی پاکستانی خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔

بلدیاتی انتخابات کی بڑی نشستوں پر خواتین امیدواروں میں سب سے زیادہ چار امیدوار یونین کونسل28 میں ہیں البتہ چیئرمین اور نائب چیئرمین دونوں کے لیے انتخابات لڑنے کا خواتین کو موقع عوامی ورکرز پارٹی کی طرف سے ملا۔

پارٹی کا سُرخ و سفید جھنڈا تھامے شبانہ رُوبن کا خیال ہے کہ اگر وہ کسی بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ ہوتیں تو اُنھیں ایسا موقع کبھی نہ ملتا۔

’ایک عورت اور وہ بھی مسیح۔ ایک ایسی کالونی سے جو کچی آبادی کہلاتی ہے۔ مجھے اِس پر فخر ہے اور پارٹی کی شکر گزار ہوں۔‘

آمنہ مواز قومی سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے ساتھ اپنا موازنہ یوں کرتی ہیں:

’ہمارے پاس اُس طرح کے وسائل نہیں ہیں۔ ہماری مہم انوکھی رہی۔ ایک ہی گاڑی میں گھومتے رہے۔‘

مہم کی آخری رات بھی اُنھوں نے اپنی ڈبل کیبن گاڑی پر نصب چلتی پھرتی سکرین پر فلم دکھائی۔ اِسی گاڑی پر لگے ہوئے سپیکروں سے ترانے گونج رہے تھے۔ کُھلے آسمان تلے رقص ہو رہا تھا اور نعرے گونج رہے تھے۔ ووٹروں کی آؤ بھگت کے لیے شامیانے، کُرسیاں اور لائٹنگ جیسا کوئی بندوبست نہ تھا۔ فرانس کالونی کے لوگ چھتوں پر چڑھ کر اِس منفرد جلسے سے لطف اٹھا رہے تھے۔

آمنہ مواز کے مطابق کچی آبادیوں کے لوگ ہی بجلی پانی گیس کی قلت، خستہ رہائش گاہوں کے مالکانہ حقوق، نکاسیِ آب اور دیگر عوامی سہولتوں سے محروم ہیں۔

’مِحلوں والے تو اُٹھتے ہی نہیں۔ کچی آبادی کے لوگ اپنے مسئلوں کو حل کرنا چاہتے ہیں اِس لیے وہ اُٹھتے ہیں۔ نکلتے ہیں (ووٹ ڈالنے کے لیے)۔ اِس لیے سب جماعتیں انتخابات کے دنوں میں یہاں توجہ دیتی ہیں۔‘

ووٹروں اور عوامی سہولیات میں زمین آسمان کے فرق کے باوجود رویوں کے اعتبار سے اسلام آباد کے اِس وسطی حصے کی انتخابی مہم منفرد رہی۔

’جب ہم نےگھر گھر جا کر مہم چلائی تو لوگ بہت خوش تھے کہ میں ڈانسر ہوں۔ میرے لیے بھی یہ فخر کی بات ہے۔‘

یونین کونسل 28 میں مخصوص نشستوں سمیت خواتین امیدواروں کی شرح30 فیصد ہے۔ مجموعی طور پر اسلام آباد کی 50 یونین کونسلوں سے 650 نشستوں کے لیے خواتین امیدواروں کی شرح بمشکل 14 فیصد بنتی ہے۔

خواتین امیدواروں کے معاملے میں منفرد علاقے کو شبانہ اور آمنہ نے سیاسی، سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بنایا ہے۔ نوجوانوں کی نشست پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے والے حسین احمد سے سیاسی اتحاد کیا ہے جو ایک مقامی خطیب کے صاحبزادے ہیں۔

اسلام آباد کی منفرد یونین کونسل میں منفرد پینل بنانے والی آمنہ مواز کا خیال ہے کہ اُن کا انوکھا پن ہی اُنھیں انتخابات جیتنے کا موقع دے گا۔

’اُنھوں (دوسری پارٹیوں) نے ہمیں گھاس بھی نہیں ڈالا۔ میرا خیال ہے کہ ہم چُپکے سے جیت جائیں گے۔ کیونکہ اُنھوں نے سوچا ہی نہیں کہ شاید مسیحی، عورتیں اور ڈانسر اور جو بھی۔۔ اُن کا تو آپس میں جھگڑا ہے جس پر ہم خوش ہیں۔ اُن کے ووٹ ایک دوسرے کو کینسل کریں گے۔‘

اسی بارے میں