انتخابی پمفلٹ پرسیاہ لکیرکیوں پھیر دی؟

شیراز فاروقی
Image caption شیراز فاروقی کہتے ہیں کہ ’اِس میں کوئی فتنہ یا جُملہ نہیں لکھا ہوا جو اُن (احمدیوں) کی دل آزاری ہو۔ اُن سے درخواست کی گئی ہے۔‘

اسلام آباد کے بلدیاتی اتنخابات میں ایک آزاد امیدوار کو اپنی مہم کے آخری دنوں میں اپنے پمفلٹ پر سیاہ لکیر کھینچنا پڑی ہے۔

ووٹروں کو قائل کرنے کے لیے اُنہوں نے ہزاروں پمفلٹ چھپوائے لیکن انتخابات سے پہلے پمفلٹ کے ایک جُملے پر گھر میں ہی اختلافِ رائے پیدا ہو گیا۔

یونین کونسل 30 سے انتخاب لڑنے والے شیراز فاروقی ذاتی حیثیت میں نو سالوں سے قرآن پاک کے تحفظ کی مہم چلا رہے ہیں۔ مقدس اوراق اور نُسخوں کو جمع کرکے محفوظ کرتے ہیں اور انتخابی منشور میں بھی اُن کی یہی اولین ترجیح ہے۔

’میں چاہ رہا ہوں کہ گلی محلوں میں گندگی کے ڈھیروں میں جو چیزیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ کم از کم یہاں ڈبے لگے ہوئے ہوں، اُن میں جمع کی جائیں۔‘

اپنے منشور پر مبنی پمفلٹ میں اُنھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’قادیانی حضرات مجھے ووٹ ڈالنے کی زحمت نہ کریں۔‘

ایک انتخابی امیدوار کی حیثیت سے ووٹ مانگنے کی بجائے اِس سے منع کرنے پر اُن کا کہنا ہے کہ ’میں نے جب ووٹروں کی فہرست دیکھی۔ میرا دماغ گُھوم گیا۔ میرا ضمیر گوارا نہیں کیا کہ اِن لوگوں سے ووٹ لے کر آگے آؤں۔‘

اسلام آباد میں انتخابی ضابطۂ اخلاق امیدواروں کو ایسی تقاریر سے منع کرتا ہے جن سے فرقہ وارانہ جذبات بھڑکیں۔ شق 18 کہتی ہے کہ امیدوار ’مذہب کی بنیاد پر کسی شخص کے انتخابات میں حصہ لینے کی مخالفت نہیں کریں گے۔‘

شیراز فاروقی کے مطابق اُن کی تحریر فرقے کی بنیاد پر نہیں ہے۔ ’اِس میں کوئی فتنہ یا جُملہ نہیں لکھا ہوا جو اُن (احمدیوں) کی دل آزاری ہو۔ اُن سے درخواست کی گئی ہے۔‘

Image caption جماعتِ احمدیہ کے ترجمان نے اِس صورتحال کو انتخابی نظام کا ’امتیازی سلوک‘ قرار دیا ہے

اپنے حلقے کے احمدی ووٹروں کو اپنے لیے ووٹ ڈالنے سے منع کرنے کے متعلق ضابطۂ اخلاق کی تشریح کے لیے بی بی سی نے اِس کی تیاری اور نفاذ کے ذمہ دار متعدد افسران سے بات کی تو اُن میں بھی اختلافِ رائے تھا۔ کوئی بھی باضابطہ طور پر سرکاری موقف نہیں دینا چاہتا تھا۔

ایک تشریح یہ تھی کہ ’امیدوار نے کسی کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ذاتی طور پر اُس سے مستفید ہونے سے کنارہ کشی کی۔ اس لیے ضابطے کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔‘

ایک افسر نے سوال اُٹھایا کہ ’کل اگر شیعہ سُنی پر ایسے جُملے لکھے جائیں تو کیا ہو گا؟ کسی بھی کمیونٹی کے ساتھ مذہب اور فرقے کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا جا سکتا۔‘

جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین اِس صورتحال کو انتخابی نظام کا ’امتیازی سلوک‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ دو ہزار دو کے جوائنٹ الیکٹوریٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’الیکشن کے رائج الوقت طریقے میں دو فہرستیں بنتی ہیں۔ ایک میں مسلمان، عیسائی، ہندو، سکھ شامل ہیں۔ جبکہ صرف ایک کمیونٹی کو الگ کرکے لکھا جاتا ہے کہ یہ قادیانی ہیں۔‘

اس بنیاد پر جماعتِ احمدیہ انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنتی۔ سلیم الدین نے بتایا کہ اُن کے مرکز ربوا میں 33 ہزار ووٹ ہیں اور بلدیاتی انتخابات میں ایک ووٹ بھی کاسٹ نہیں کیا گیا۔

یہ خدشات بھی رہتے ہیں کہ الگ انتخابی فہرست پُرتشدد عناصر کو مقامی احمدیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتی ہے۔

Image caption مہم کے آخری دنوں میں پمفلٹ میں درج جُملے پر سیاہ لکیر پھیر دی گئی

شیراز فاروقی کے مطابق اُن کی یونین کونسل کی فہرست میں تقریباً سوا دو سو ووٹر ہے۔ بیشتر کو وہ جانتے تو تھے لیکن اُن کے مذہبی رجحان سے ناواقف تھے۔

یونین کونسل تیس کے ایک نوجوان احمدی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُنھوں نے بھی شیراز فاروقی کا پمفلٹ دیکھا۔ البتہ ’وہ اگر ہمیں منہ نہیں لگا رہے تو ہم اُنھیں کیوں مُنہ لگائیں؟‘ یہ نوجوان ووٹ ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

شیراز فاروقی کہتے ہیں کہ ’میں اِس نیت سے نہیں آیا کہ اِن لوگوں کے خلاف کوئی پراپیگنڈہ کروں۔ اتفاق سے جب میں نے یہ چیز (انتخابی فہرست) پڑھی تو میرا ضمیر نہیں گوارا کیا۔ جیت کے لیے اگر مجھے اِن کا آخری ووٹ بھی پڑ رہا ہو تو میں معذرت کر لوں گا۔‘

جب اُن سے پوچھا گیا کہ اِس سے اُن کے حلقے کے رہائشیوں میں تفرقہ بازی پھیل سکتی ہے تو اُن کا جواب تھا کہ ’مجھے یہاں ایسا کوئی ردعمل نہیں ملا۔‘

البتہ مہم کے آخری دنوں میں اپنے پمفلٹ میں درج جُملے پر سیاہ لکیر پھیر دینے کے متعلق اُنہوں نے بتایا کہ ’والد صاحب مجھ سے کہتے ہیں کہ جب لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں تو میں اُنہیں قائل نہیں کر سکتا کہ یہ جُملہ کیوں لکھا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو میں یہ پمفلٹ دوں گا۔ کاٹ کر دوں گا۔‘

اسی بارے میں