سانحۂ پشاور کے چار مجرمان کے بلیک وارنٹ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک وارنٹ اس وقت جاری ہوتے ہیں جب کوئی بھی مجرم اس سزا کے خلاف اپنے تمام قانونی حق استعمال کرچکا ہو

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے مقدمے میں گرفتار مجرمان میں سے چار کی سزائے موت کے بلیک وارنٹس پر دستخط کر دیے ہیں۔

آرمی پبلک سکول پر گذشتہ برس 16 دسمبر کو ہونے والے حملے میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریت طلبا کی تھی۔

سانحہ پشاور کے مجرمان کی رحم کی اپیلیں مسترد

’پشاور سکول حملے کے نو حملہ آور ہلاک، 12 گرفتار‘

پشاور آرمی سکول پر حملے کے چھ مجرموں کو سزائے موت

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جن مجرمان کے بلیک وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اُن میں مولوی عبدالسلام، حضرت علی، مجیب الرحمٰن عرف نجیب اللہ اور سبیل عرف یحییٰ شامل ہیں۔

ان مجرموں میں سے مولوی عبدالسلام سرکاری ملازم اور پشاور میں محکمہ آبپاشی کی مسجد کے پیش امام تھے اور ان پر حملہ آوروں کو رہائش فراہم کرنے کا الزام ہے۔

بقیہ تینوں مجرموں پر آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والوں کی مدد کا الزام ہے تاہم حکام کی جانب سے مدد کی نوعیت کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے طالب علموں سمیت 140 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا

قانونی ماہرین کے مطابق مجرمان کے بلیک وارنٹ جاری ہونے کے بعد اُنھیں کسی بھی وقت تختہ دار پر لٹکایا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک وارنٹ اس وقت جاری ہوتے ہیں جب کوئی بھی مجرم اس سزا کے خلاف اپنے تمام قانونی حق استعمال کرچکا ہو۔

واضح رہے کہ چند روز قبل صدر مملکت نے وزیر اعظم کی ہدایت پر آرمی پبلک سکول کے ان چار مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔

ان چاروں مجرموں نے فوجی عدالت کی طرف سے ملنے والی سزائے موت کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کب چیلینج کیا اس بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی اس بارے میں معلوم ہوسکا ہے کہ ان مجرموں کی سزا کے خلاف اپیلوں کی پیروی کن وکلا نے کی تھی۔

سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کی اکثریت میں فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے عام شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائیل کرنے کے ساتھ ساتھ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی فیصلہ دیا تھا۔

اسی بارے میں