بلیک بیری پاکستان میں آپریشنز بند کر رہی ہے

بلیک بیری تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بلیک بیری کا کہنا ہے کہ اسے پاکستان چھوڑنے پر بہت افسوس ہے

فون ساز کمپنی بلیک بیری 2015 کے اختتام تک پاکستان میں کام کرنا بند کر دے گی کیونکہ حکومت چاہتی ہے کو وہ صارفین کے ڈیٹا کو خود مانیٹر کرے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان چاہتی ہے کہ فون کے ذریعے بھیجے گئے ہر پیغام اور ای میلز کو مانیٹر کیا جائے۔

ایک بلاگ پوسٹ میں کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اس تنازعے کی وجہ سے ’مارکیٹ کو مکمل طور پر چھوڑ رہی ہے۔‘

اس نے کہا کہ پاکستان کے مطالبے کا سکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ’آزادانہ رسائی‘ کی ایک درخواست ہے۔

جولائی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی نے بلیک بیری کو بتایا تھا کہ اس کے میسیجنگ کے سرورز کو سکیورٹی کے تحفظات کی وجہ سے ملک میں کام کرنے نہیں دیا جائے گا۔

بلیک بیری کے چیف آپریٹنگ آفیسر مارٹی بیئرڈ نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ پاکستان چاہتا تھا کہ وہ سرورز میں پیغامات کی تمام ٹریفک کو دیکھے لیکن فون کمپنی اس قسم کے احکامات کی پابندی نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بغیر پاکستان میں رہنے کا مطلب ہے کہ ہم صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے عزم کو خیرباد کہیں۔ ہم یہ سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

’اس کے بعد پاکستان نے ہمیں کہا کہ ہمارے سرورز پاکستان میں کام نہیں کر سکتے۔‘

مارٹی بیئرڈ نے کہا کہ بلیک بیری ’چور دروازے‘ کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتا جس کی وجہ سے صارفین کے متعلق معلومات تک ہر کسی کو رسائی دی جائے اور اس نے پوری دنیا میں اس قسم کی کسی درخواست نہیں مانی۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ ہم جرائم کی سرگرمیوں کے متعلق تحقیقات کرنے کی حکومت کی قانونی درخواستوں کو ماننے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں، ہم نے کبھی بھی اپنے سروسرز تک مکمل رسائی دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کمپنی کو پاکستان چھوڑنے پر افسوس ہے کیونکہ یہ ایک اہم مارکیٹ ہے۔

پہلے پہل بلیک بیری نے کہا تھا کہ وہ نومبر کے اختتام تک اپنے آپریشنز بند کر دے گی لیکن اب حکومت کی طرف سے آپریشنز بند کرانے کی تاریخ میں توسیع کے بعد اسے بڑھا کر 30 دسمبر کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں