’بنگلہ دیش پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنگلہ دیش میں سینیئر سیاسی رہنماؤں کو آزادی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب پایا جانے پر پھانسیاں دی گئی ہیں

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا اور سارک نے بنگلہ دیش کے قائم مقام ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ میں طلبی کر کے انھیں بتایا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کے بے بنیاد الزامات کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان نے جنگی جرائم میں حصہ لینے کے الزام کو بھی رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت سے ماورا ہے۔

دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ ہماری برادرانہ تعلقات استوار کرنے کی حتی الامکان کوشش کے بعد بھی بنگلہ دیش کی حکومت پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان سمجھتا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام دوستی اور بھائی چارے کا مضبوط رشتہ چاہتے ہیں جبکہ ایسا لگتا ہے کہ بنگلہ دیش ان احساسات کی قدر نہیں کرتا۔‘

بیان کے مطابق 1974 کا سہ فریقی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا بنیادی اصول ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے کے مطابق بنگلہ دیش کی حکومت نے کہا تھا کہ وہ رحم کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمات آگے نہیں چلائے گی۔

یاد رہے کہ 23 نومبر کو بنگلہ دیش کے دفترِ خارجہ نے ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر شجاع عالم کو طلب کر کے انھیں ایک احتجاجی مراسلہ دیا تھا اور کہا ہے کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں۔

اس سے ایک روز قبل پاکستان نے بنگلہ دیش میں حزبِ مخالف کے دو رہنماؤں کو پھانسی دیے جانے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نو اپریل 1974 کو کیے جانے والے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے مفاہمتی انداز اپنائے۔

بنگلہ دیش نے حزب اختلاف کے دو رہنماؤں صلاح الدین قادر چودھری اور علی احسن محمد مجاہد کو سنہ 1971 میں پاکستان کے خلاف بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر ڈھاکہ کی سینٹرل جیل میں پھانسی دی تھی۔

ان دونوں رہنماؤں پر قتل عام اور ریپ کا الزام تھا جس کی دونوں نے تردید کی تھی۔

ڈھاکہ سے بی بی سی کے نامہ نگار اکبر حسین کے مطابق پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات کے بعد ریاستی وزیر برائے امورِ خارجہ شہریار عالم نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ جنگی مجرموں کو سزا دینا بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے۔

انھوں نے پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کو توقع ہے کہ اس کے داخلی معاملات کا احترام کیا جائے گا۔

اسی بارے میں