ڈیرہ اسماعیل خان سے تین مبینہ شدت پسند گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چند روز سے پشاور سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں بھی سرچ آپریشن جاری ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انسداد دہشت گردی کے محکمے نے تین انتہائی مطلوب شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ چند روز سے پشاور سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں بھی سرچ آپریشن جاری ہیں۔

انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پشاور میں بھتہ خوری کی وارداتوں میں مطلوب افراد کی ڈیرہ اسماعیل خان میں موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے بعد تینوں افراد کو بنوں روڈ پر کوٹلی امام کے قریب سے گرفتار کر لیا گیا۔

ملزمان سے پانچ کلوگرام بارود اور پانچ میٹر پرائما تار برآمد ہوئی ہے۔

ان تینوں افراد کو تعلق قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے بتایا گیا ہے لیکن یہ ضلع چارسدہ میں رہائش پذیر تھے۔

ملزمان کالعدم تنظیم کے رکن بتائے گئے ہیں اور یہ تینوں افراد پشاور میں 50 سے زیادہ بھتہ خوری کے وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان ملزمان کا تعلق کس کالعدم نتظیم سے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے بعد تینوں ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ گذشتہ دنوں پشاور، کوہاٹ، مردان اور مانسہرہ میں بھی پولیس اور دیگر اداروں نے مشترکہ سرچ آپریشن کیے تھے جہاں سے درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھاجن میں افغان پناہ گزین بھی شامل تھے۔

انسداد دہشت گردی کا محکمہ چند سال پہلے ہی قائم کیا گیا تھا لیکن اس سال کے اوائل میں اس محکمے نے کارروائیاں تیز کی ہیں اور اب تک ایسی اطلاعات ہیں کہ پانچ سو سے زیادہ انتہائی مطلوب شدت پسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں