’اقتصادی ترقی کے وعدہ کھوکھلے، ماضی کی طرح منی بجٹ پر منی بجٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

عالمی مارکیٹ میں پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم تو ہوئی ہیں لیکن اس تناسب سے نہیں ہوئیں جس تناسب سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت نیچے آئی ہے۔ پاکستان میں حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے اثر کو ٹیکس بڑھا کر تقریباً ختم کر دیتی ہے۔

ٹیکسیوں کے کرائے میں کمی کے بارے میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ کرائے کم نہیں ہوتے بلکہ ٹیکسی والے کہتے ہیں کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے۔

اس خاتون کا یہ جملہ بڑی حد تک پاکستان کی معیشت کی عکاسی کرتا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں ترقی کی شرح مستحکم ہوئی ہے، مہنگائی کم ہے اور ترسیلات زر یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجوائی جانے والی رقوم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں لیکن ان تمام مثبت رجحانات کے باوجود پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح کم ہو رہی ہے، ٹیکس آمدن کے اہداف پورے نہیں ہو رہے اور عام آدمی اپنی زندگی میں تبدیلی یا بہتری محسوس نہیں کر پا رہا۔

حال ہی میں حکومت نے آمدن میں کمی کو پورے کرنے کے لیے 40 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے ہیں جو اُن کے خیال میں ایسی پرتعیش اشیا کی درآمد پر عائد کیے گئے ہیں جو نہ تو عام آدمی کے استعمال میں ہیں اور نہ ہی ملکی سطح پر تیار ہونے والی اشیا میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔

حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3104 ارب روپے مقرر کیا ہے اور جولائی سے اکتوبر تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 801 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا ہے جو اس عرصے کے دوران ٹیکس کلیکشن کے ہدف سے 40 ارب روپے کم ہے۔

ماہر اقتصادیات کے خیال میں رواں مالی سال میں ٹیکس وصولی کا 3104 ارب روپے کا ہدف حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔

بجٹ کے چند ماہ بعد ہی اس منی بجٹ پر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ ’معیشت کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو نوے کی دہائی میں ہوا تھا۔ ملک میں حالات ایسے ہو رہے ہیں کہ کسی بھی چیز کی ملک میں تیاری مہنگی ہے اور درآمدت سستی۔ ڈار صاحب نے کہا تھا کہ ایس آر او کلچر کا خاتمہ کیا جائے گا اور اب خود ایس ار او پر ایس ار او جاری کر رہے ہیں۔‘

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اضافی ٹیکس اور ڈیوٹیز سے حاصل ہونے والی آمدن آپریشن ضربِ عضب اور متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرانے والے افراد کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔

حکومت نے 61 درآمدی مصنوعات پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں پانچ سے دس فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے اور 289 مصنوعات کی درآمد پر 5 فیصد ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ ’ٹیکس یہ کہہ کر لگایا گیا ہے کہ 40 ارب روپے چاہیں لیکن ایف بی آر کی آمدن کا ایک بڑا حصہ درامدی مصنوعات پر عائد ڈیوٹی سے حاصل ہو رہا ہے۔ درامدی ڈیوٹی بڑھانے سے مصنوعات کی باقاعدہ درامدت کم ہوں گی اور چیزیں سمگل ہو کر آئیں گی۔ تو پھر ان اقدامات کا فائدہ کیا ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر کچھ ماہ کے دوران ٹیکس کا ہدف پورا نہیں ہو گا تو پھر دوبارہ منی بجٹ آئے گا۔

پاکستان میں رائج قانون کے تحت ٹیکس اور ڈیوٹیز کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار پارلیمان کے پاس ہے لیکن وزیر خزانہ نے ٹیکس سے متعلق نئے اقدامات متعارف کروانے کے لیے ایس ار او جاری کیا ہے اور ان ٹیکسوں کی منظوری پارلیمنٹ نے نہیں دی ہے۔

اشفاق حسن نے کہا کہ ’پارلیمنٹ کا اختیار بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔‘

ماہر اقتصادیات کے مطابق ملک میں آمدن کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کر کے صنعتی ترقی کو بڑھانا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ صنعتوں کے لیے توانائی کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے لیکن ان سب کے باوجود ملک میں برامدات کم ہو رہی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی سے اکتوبر کے دوران ملک میں مجموعی برامدات کا حجم 6 ارب 87 کروڑ ڈالر رہا جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہے۔

اسی دوران ملک میں مجموعی طور پر 14 ارب 56 کروڑ ڈالر کی درآمدت ہوئی ہیں۔

پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہو رہی ہے جس سے پاکستان کی مصنوعات بیرونی منڈیوں میں سستی ہو رہی ہیں۔ ملک میں بینکوں کی شرح سود کم ترین سطح پر ہے لیکن نہ تو نجی سرمایہ کار قرضے لے رہے ہیں اور نہ برامدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ کاری بڑھے، کاروبار کے لیے ماحول ساز گار ہو تاکہ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے سے حقیقی ترقی ہو کیونکہ آمدن بڑھانے کے عارضی اقدامات معیشت کو مستحکم نہیں کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں