نواز اور مودی کی خفیہ ملاقات کا معمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان سری لنکا میں ایک گھنٹہ طویل خفیہ ملاقات کے بارے میں بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات قطعی بے بنیاد ہیں۔

حکومتِ پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھی موقعے پر دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان خفیہ ملاقات نہیں ہوئی۔

بھارتی صحافی برکھا دت نے رواں ہفتے منظر عام پر آنے والی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں سارک سربراہان کے اجلاس کے موقعے پر پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کےمابین خفیہ ملاقات ہوئی تھی۔

کتاب میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’ایک سال قبل ٹی وی کیمروں کی نظر میں دونوں رہنماؤں نے صرف مصافحہ کیا لیکن کیمروں سے چھپ کر انھوں نے ملاقات کی۔ یہ مبینہ ملاقات کروانے میں شریف خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے سٹیل کی صنعت سے وابستہ بھارتی کاروباری شخصیت سجن جندل نے اہم کردار ادا کیا۔‘

’سجن جندل سٹیل کے بڑے صنعت کار ہیں اور کانگریس کے سابق رکن نوین جندل کے بھائی ہیں۔‘

بھارتی صحافی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’مشکل حالات میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں سجن جندل نے پل کا کردار ادا کیا۔‘

بھارت کے اخبار دی ہندو میں شائع ہونے والی اس خبر کی بھارتی وزارت خارجہ نے بھی تردید کی ہے۔

بھارتی دفترِ خارجہ کے ترجمان وکاس سورپ نے کہا کہ ’یہ اطلاعات بالکل بے بنیاد ہیں اور سارک کے اجلاس کے دوران کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یاد رہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف نے شرکت کی تھی اور کہا تھا کہ بات چیت دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

کتاب میں لکھا ہے کہ ’دونوں ممالک کے رہنماؤں نے واقف کاروں کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغام دیا کہ غیر رسمی بات چیت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔‘

بھارتی صحافی کا دعویٰ ہے کہ یہ واقف کار جندل ہیں جنھوں نے دہلی آمد کے موقعے پر نواز شریف کو چائے پر بھی مدعو کیا تھا۔

برکھا دت کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ بھارت کے سرکاری اور نجی سٹیل انڈسٹری کے افراد دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔اگر تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو وہ افغانستان میں سے خام لوہے کو پاکستان کے راستے بذریعہ سڑک بھارت لا سکتے ہیں۔‘

گو پاکستان اور بھارت دونوں نے اس خفیہ ملاقات کی تردید کی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ حال ہی میں پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی پر ہونے والی کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے مابین مختصر ملاقات سے دونوں ملکوں کے درمیان سرد تعلقات میں گرمی آئی ہے اور ممکنہ طور پر اس ملاقات میں بھی ’واقف کاروں‘ نے اہم کردار ادا کیا ہو۔

اسی بارے میں