کراچی کی پشتون آبادی کا بدلتا سیاسی رجحان

کراچی میں پشتون کمیونیٹی ماضی میں مذہب اور قومیت کی بنیاد پر سیاست کرنے والی جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو بھی ووٹ دیتی رہی ہے۔

شہر کے مضافات میں آباد پشتون آبادی کی اکثریت پینے کے پانی، سڑکوں، صفائی، صحت اور تعلیم کی سہولیات سے محروم ہے اور یہ وہی علاقے ہیں جہاں مدارس کی بہتات ہے اور اب مذہبی تنظیموں کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔

گلشن بونیر بھی ایک ایسا ہی پشتون اکثریتی علاقہ ہے جہاں سوات کے علاوہ محسود قبیلے کے لوگ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔

اس علاقے میں سیاسی و مذہبی تنظیم کے جھنڈے اور پوسٹر نظر آتے ہیں لیکن اس بلدیاتی الیکشن میں یہاں تحریک انصاف کا رنگ زیادہ ہے۔

ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کو ووٹ دینے والے محمد خان بھی اس بار مہر لگانے کے لیے ’بلے‘ کا انتخاب کیے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’تحریک انصاف نے سوات میں ہمارے گاؤں کو تمام سہولیات دی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہاں بھی یہ سہولیات ملیں گی۔ اس سے قبل انہوں نے دیا تھا۔

Image caption پشتون کمیونیٹی ماضی میں مذہب اور قومیت کی بنیاد پر سیاست کرنے والی جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو بھی ووٹ دیتی رہی ہے

صحافی اور تجزیہ نگار ضیاءالرحمان کے مطابق کراچی میں پختون آبادی کا سیاسی رجحان تبدیل ہوتا رہتا ہے اور یہاں پر ووٹ ڈالنے کے رویے کا خیبر پختونخوا سے گہرا تعلق ہے۔

’2002 میں جب خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل جیتی تو کراچی کی پختون آبادی سے بھی اسی کے پشتون نمائندے منتخب ہوئے اور جب 2008 میں وہاں عوامی نیشنل پارٹی نے اکثریت حاصل کی تو یہاں کی پشتون آبادی سے اے این پی کو دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں ملیں۔ اب جب خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی ہوا چل رہی ہے تو پختون آبادی میں بھی اس کے اثرات ہیں۔‘

کراچی میں 5 دسمبر کو 246 یونین کونسلوں پر انتخابات ہوں گے اور تحریک انصاف نے اتحادیوں کے ساتھ 800 اُمیدوار کھڑے کیے ہیں جن میں اکثریت پشتون آبادیوں میں ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما دعویٰ خان کا کہنا ہے کہ لوگ انھیں اِس لیے ووٹ دیں گے کہ اے این پی اور جے یو آئی کی سیاست سب کے سامنے ہے۔

’ان کے اقتدار میں آنے سے لوگوں کی نہیں بلکہ اِن کی زندگیوں میں تبدیلی آئی ہے لیکن تحریک انصاف کا مقصد لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانا ہے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما یونس بونیری کہتے ہیں خیبر پختونخوا کی طرح کراچی میں بھی سب سے زیادہ انھیں نشانہ بنایا گیا اور ان کی سیاست پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی تھی۔

بونیری کے مطابق شہر میں حالیہ آپریشن کے بعد امن قائم ہوا تو اے این پی نے دوبارہ اپنی سیاست کا آغاز کیا اور حالیہ انتخابات میں ان کے 264 نمائندے الیکشن لڑ رہے ہیں اور انھوں نے پی پی پی کے علاوہ مقامی برادریوں کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔

’پختون برادری کا نوجوان ہمارے ساتھ ہے اور ان انتخابات میں تحریک انصاف کو اپنی مقبولیت کا پتا لگ جائے گا۔‘

عوامی نیشنل پارٹی سے پہلے پشتون آبادی سے جمیعت علما اسلام کامیابی حاصل کرتی رہی ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اس کی قیادت نے عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا ہے۔

جے یو آئی کے رہنما قاری عثمان کا کہنا ہے کہ ان کا نظریاتی ورکر کسی قومی جماعت میں نہیں جا سکتا۔ تحریک انصاف کو تو وہ سیاسی جماعت ہی نہیں سمجھتے اور ان کے خیال میں یہ ایک حادثاتی چیز ہے جسے میدان میں لایا گیا ہے۔

کراچی میں اہلسنت والجماعت ، پاکستان راہ حق پارٹی کے پلیٹ فارم سے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں شریک ہے جس کی نظر بھی دیوبند مکتب فکر کے ووٹ بینک پر ہے جس میں اکثریت پشتون آبادی کی ہے۔

قاری عثمان ان کے کارکنان اِس سے متاثر نہیں ہوں گے البتہ ووٹ ضرور تقسیم ہوگا۔

کیماڑی، سائٹ، بلدیہ اور اورنگی ٹاون میں پشتون آبادی اکثریتی ووٹ بینک رکھتی ہے اور یہاں 46 یونین کمیٹیاں ہیں جس نے ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کا انتخاب کرنا ہے۔

جماعت اسلامی کی بھی نظریں پشتون ووٹ پر رہتی ہیں، انتخابات سے قبل تنظیم کے امیر سراج الحق اور خیبر پختون خواہ کے رہنما پروفیسر ابراہیم خان پشتون جرگہ منعقد کرچکے ہیں جبکہ تحریک انصاف سے اتحادسے بھی انھیں فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

جماعت اسلامی ضلعی غربی کے رہنما عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ سراج الحق اور پروفیسر ابراہیم کے جرگے سے کافی فرق پڑا ہے اور پشتون آبادی میں جماعت اسلامی کی مقبولیت میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔

’اس وقت لوگ بہت پریشان اور ڈرے ہوئے تھے وہ اپنے مسائل بیان نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے انہیں حوصلہ دیا اور بتایا کہ اگر کوئی گناہ گار نہیں اس کے ساتھ پولیس کوئی زیادتی کرتی ہے وہ بات کر سکتا ہے، میڈیا کو بھی بتا سکتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن اور قومی ایکشن پلان کے تحت شہر میں جاری کارروائیوں میں پشتون آبادیوں میں کئی درجن مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ظاہر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں