پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے میں ووٹنگ مکمل، گنتی جاری

Image caption کراچی کے اکثر پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عمل کے دوران روایتی جوش و خروش نظر نہیں آرہا

پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں صوبہ پنجاب کے 12 اور صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے چھ اضلاع میں پولنگ ہوئی اور اب گنتی کا عمل جاری ہے۔

سندھ اور پنجاب میں تین مرحلوں میں بلدیاتی انتخابات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس میں دونوں صوبوں میں ابتدائی دو مرحلے مکمل ہو چکے ہیں۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں لڑائی جھگڑے اور بے ضابطگیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کراچی کی پولنگ کا احوال

کراچی کے علاقے نشتر پارک میں پارسی سکول میں قائم پولنگ سٹیشن سے جعلی انتخابی عملے کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہاں رینجرز نے مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اشرف عباس، محمد حسن اور شاہ زمان نامی شخص کو گرفتار کیا جو وہاں خود کو انتخابی عملہ ظاہر کر رہے تھے۔

اس سے پہلے کراچی کے علاقے کورنگی میں ضیا الرحمن کالونی میں قائم پولنگ سٹیشن میں مسلح افراد نے حملہ کر کے بیلٹ پیپرز چھین کر عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ضلعی ریٹرنگ افسر، اصغر سیال نے رینجرز کی مدد طلب کی جس کے بعد عملے کو بازیاب کروایا۔

اصغر سیال نے میڈیا کو بتایا کے ان کے ضلعے کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا اس کے باوجود انھیں مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

Image caption لڑکیوں کے سرکاری پرائمری اسکول احشتامیہ کے ایک بوتھ میں 120 ووٹر تھے لیکن نو بجے تک ایک بھی ووٹر نہیں آیا تھا

سول ہسپتال کے قریب ملالہ یوسفزئی سکول میں قائم پولنگ سٹیشن میں مردوں کے بوتھ میں کل 1360 رجسٹرڈ ووٹوں میں سے بارہ بجے تک 49 ووٹ کاسٹ کیے گئے تھے۔

ووکیشنل ٹرینگ سینٹر کے بوتھ ون اور ٹو پر صبح پونے نو بجے صرف 14 ووٹ کاسٹ ہوئے تھے جبکہ یہاں کل ووٹروں کی تعداد 1500 تھی، لڑکیوں کے سرکاری پرائمری اسکول احشتامیہ کے ایک بوتھ میں 120 ووٹر تھے لیکن نو بجے تک ایک بھی ووٹر نہیں آیا تھا۔

لیاری کے علاقے گل محمد لین کی پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ بوائر پرائمری اسکول نمبر 2 میں کل ووٹروں کی تعداد 900 تھی لیکن یہاں صرف 25 ووٹ کاسٹ ہوئے تھے، اسی طرح آور لیڈی فاطمہ گرلز اسکول رتن تلاؤ گارڈن ایک بوتھ ون میں 500 ووٹ رجسٹرڈ تھے جبکہ صرف 15 ووٹر پہنچے تھے۔

جیکب لائن کی تین پولنگ اسٹیشنوں میں سے صرف ایک اسلامیہ کالج میں ایم کیو ایم کے ایجنٹ موجود نظر آئے جبکہ باقی دونوں پولنگ اسٹیشنوں پر صرف پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم حقیقی کے ایجنٹ موجود تھے جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ایجنٹ اور کیمپ کا نام و نشان نہ تھا۔

رتن تلاؤ کی پولنگ اسٹیشن پر صرف تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے ایجنٹ موجود تھے جبکہ دیگر کسی جماعت کا ایجنٹ نظر نہیں آیا۔

پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات ہیں، جبکہ رینجرز کے افسران بار بار گشت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

ووٹرز نے عملے کے غیر تربیت یافتہ ہونے کی بھی شکایت کی اور بتایا کہ ان کہ اصرار پر انگوٹھے پر سیاہی لگائی گئی، جبکہ بیلٹ پیپر کا معیار بہتر نہ ہونے کی وجہ سے پشت پر لگی ہوئی سیاہی اوپر بھی نظر آرہی تھی جس پر بعض ایجنٹوں نے اعتراض بھی کیے۔

Image caption حساس پولنگ سٹیشنوں پر پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی تعینات کیا گیا ہے جبکہ دیگر پر صرف پولیس اہلکار تعینات ہیں

کراچی میں 70 لاکھ سے زائد ووٹر رجسٹرڈ ہیں جن کے لیے 4141 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں، ان پولنگ سٹیشنوں میں سے 1791 کو انتہائی حساس اور 216 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

حساس پولنگ سٹیشنوں پر پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی تعینات کیا گیا ہے جبکہ دیگر پر صرف پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ فوج کی 20 کمپنیاں بھی طلب کی گئی ہیں۔ رینجرز اور فوج کے افسران کو فرسٹ کلاس میجسٹریٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

شہر کے چھ اضلاع شرقی، جنوبی، غربی، وسطی، کورنگی اور ملیر پر مشتمل ہے، جس میں 247 یونین کونسل ہیں جہاں سے 5401 امیدوار میدان میں ہیں۔

پنجاب کا احوال

راولپنڈی کے پولنگ سٹیشنز میں بھی ووٹرز کا رش انتہائی کم رہا۔ بعض پولنگ سٹیشنز پر رجسٹرڈ ووٹر کم اور تفریح کرتے ہوئے نوجوانوں کا ہجوم زیادہ دیکھنے کو ملا۔

راولپنڈی کی یونین کونسل 39 میں مردوں کے مجموعی 1203 رجسٹرڈ ووٹوں میں سے دن دو بجہ تک 400 ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ خواتین کے 1127 ووٹوں میں سے 300 ووٹ کاسٹ کیے گئے۔

پنجاب کے 12 اضلاع میں راولپنڈی، سیالکوٹ، نارووال، خوشاب، جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ، راجن پور، لیہ، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور بہاولپور شامل ہیں۔

صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں پہلے دو مرحلوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کے مطابق سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ نون کو برتری حاصل ہوئی۔

اسی بارے میں