سکھر میں ڈاکٹر ادیب کی خیالی جنت

Image caption سندھ کا تاریخ شہر سکھر، جس میں ترقیاتی سکیموں کے نام پر رقم تو جاری ہوئی لیکن کام نہ ہوا

پاکستان کے صوبہ سندھ کا تیسرا بڑا شہر سکھر کہنے کو ایک تاریخی شہر ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے یادگار مقامات سکڑتے گئے، راستے تنگ ہوتے گئے اور شہر پھیلتا چلا گیا۔

معصوم شاہ کے منارے کی 84 سیڑھیاں چڑھ کر اوپر سے نظر دوڑائیں تو آپ کو سکھر شہر کی وسعت کا بہتر اندازہ ہوتا ہے۔ ایک طرف دریائے سندھ پر انگریزوں کا بنایا ہوا عظیم الشان سکھر بیراج، دوسری طرف جامع مسجد اور پھر سامنے گھنٹہ گھر، جو کسی زمانے میں لوگوں کو دور سے ہی نظر آتا تھا لیکن اب آس پاس کی بے ڈھنگی کثیرالمنزلہ عمارتوں اور بل بورڈوں کے پیچھے چھپ سا گیا ہے۔

اس بے ہنگم شہر میں ترقی کے نام پر بڑا پیسہ آیا۔ کچھ لوگوں نے مال بنایا، لیکن سکھر کی حالت نہ سدھری۔

معصوم شاہ کے منارے کے قریب ہی ایک تنگ گلی کے پیچھے پیلے رنگ کی ایک عمارت ہے جس پر لکھا ہے: ایس آئی یو ٹی چھبلانی میڈیکل سینٹر۔

آج سے چھ برس پہلے تک یہ جگہ سکھر بلدیہ کے پاس تھی۔ کہنے کو یہ ہسپتال تھا لیکن یہاں ڈاکٹر ہوتے تھے نہ مریض۔ بلکہ ہسپتال کے مختلف حصوں پر لوگوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔ تنگ آ کر جب حکومت نے اسے ایس آئی یو ٹی کے حوالے کیا تو اس جگہ کی قسمت جاگ گئی۔

پچھلے پانچ چھ سال میں اس جگہ کا نقشہ ہی بدل گیا۔ قبضے خالی کرائے گئے اور لوگوں کے عطیات و خیرات کی مدد سے اس اجڑے ہوئے برائے نام سرکاری کلینک کو ایک بہترین ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا، اور یوں جنوبی پنجاب، بلوچستان اور اندرونِ سندھ کے گُردے کے مریضوں کو کراچی جانے کی بجائے سکھر میں اپنا علاج کرانے کی ایک عمدہ سہولت مل گئی۔

یہ سب کیسے ہوا؟ وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ بےبس اور اور مایوس رہتے ہیں، روتے پیٹتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں؟

ایس آئی یو ٹی کے روح و رواں ڈاکٹر ادیب رضوی کے مطابق اگر نیت صاف ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’مشکلات تو ہوتی ہیں، ہمیں بھی آئیں۔ لینڈ مافیا کی طرف سے دھمکیاں بھی ملیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہمت ہار دیں اور غریبوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیں۔‘

Image caption اگر نیت صاف ہو تو سب کچھ ممکن ہے: ڈاکٹر ادیب رضوی

ڈاکٹر صاحب کا شروع سے یہ فلسفہ رہا ہے کہ مفت علاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

40 برس پہلے جب ڈاکٹر ادیب نے کراچی سول ہسپتال میں آٹھ بستروں کے ایک وارڈ سے مستقبل کے ایس آئی یو ٹی کی بنیاد رکھی تو کچھ لوگوں نے انھیں بے وقوف کہا تو کسی نے ان کا مذاق اڑایا کہ ’یہ آپ کونسا یوٹوپیا بنانے چلے ہیں؟‘

خیر خواہوں نے مشورہ دیا کہ اس سرکاری ہسپتال کو ٹھیک کرنے کی بجائے اپنی دکان کھول لیں تو زیادہ فائدے میں رہیں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان جیسے ملکوں میں ڈاکٹروں کی اکثریت یہی کرتی آئی ہے۔ لیکن جب سیاست دانوں اور بیوروکریٹوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر بھی صرف پیسہ بنانے میں لگ جائیں تو غریب کہاں جائیں؟

Image caption ڈاکٹر ادیب رضوی کہتے ہیں کہ ان کا شروع سے یہ فلسفہ رہا ہے کہ مفت علاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے

ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ہر وقت صرف حکمرانوں کو ان کی نا اہلی اور بدعنوانی پر کوسنے سے کام نہیں چلے گا۔ وہ کہتے ہیں: ’صحت کے شعبے میں اگر حکومتوں نے بار بار عوام کو مایوس کیا ہے تو یہ صرف انھی کی ناکامی نہیں بلکہ اس میں ہمارے میڈیکل پروفیشن کا بڑا ہاتھ ہے۔ ہمارے ڈاکٹروں نے اس شعبے کا حق ادا نہیں کیا اور اسے کاروبار بنا لیا۔ طب کے شعبے کی روح ہی خدمتِ خلق ہوا کرتی تھی، وہ نکل گئی۔‘

لیکن پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔

پچھلی چار دہائیوں کے دوران ڈاکٹر ادیب اور ان کی ٹیم نے لاکھوں لوگوں کا مفت علاج کرکے اپنے اُس یوٹوپیا کو عملی جامہ پہنا کر دکھایا۔ بدانتظامی اور ایک بےکار طرزِ حکمرانی کے درمیان ایک ایسا یوٹوپیا کھڑا کیا جہاں امیر غریب ، مرد عورت، ہندو مسلم، شیعہ سنی کی کوئی تفریق نہیں۔ جہاں انسان کا علاج خیرات کے طور پر نہیں عزتِ نفس کے ساتھ اس کا حق سمجھ کر کیا جاتا ہے۔

یوں ایس آئی یو ٹی نے عملاً ثابت کیا کہ اگر عزم پختہ ہو تو اسی مسائل سے بھرپور پاکستان میں آپ خدمتِ خلق کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

اس کی گواہی اس ملک کا وہ مالدار شخص بھی دے گا جس نے ایس آئی یو ٹی کو کروڑوں روپے کا عطیہ دیا ہو اور سرکاری سکول کا وہ استاد بھی جو اپنی چند ہزار کی تنخواہ سے کچھ پیسے خاموشی سے اس خیراتی ادارے کو دیتا ہے۔

سکھر میں ایس آئی یو ٹی کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ملک میں ڈاکٹر ادیب رضوی کا انسانی بھلائی کا پیغام پھیل رہا ہے لیکن اُن کے نزدیک گلاس صرف آدھا بھرا ہے اور ابھی بہت کام باقی ہے جس کے لیے ہماری آئندہ نسل کو آگے آنا ہو گا۔

اسی بارے میں