بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا امکان؟

Image caption مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چار دسمبر کو بطور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کی مدت ختم ہوگئی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی ہوگی یا نہیں، یہ وہ سوال ہے جو اس وقت بلوچستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔

سنہ 2013 میں عام انتخابات کے بعد بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے جن تین جماعتوں کے درمیان سیاحتی مقام مری میں جومعاہدہ ہوا تھا ان میں مسلم لیگ (ن) ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی شامل تھیں۔

معاہدے کے مطابق پہلے اڑھائی سال کے لیے وزیر اعلیٰ کا عہدہ بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر مالک بلوچ کو دیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق چار دسمبر کو بطور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کی مدت ختم ہوگئی ہے ۔ تاہم نیشنل پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مدت نو دسمبر کو ختم ہوگی۔

مری معاہدے کے مطابق چار یا نو دسمبر کے بعد اگلے اڑھائی سال کے لیے وزیراعلیٰ کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو ملنا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی واضح بات سامنے نہیں آئی جس کی وجہ سے اس سلسلے میں مختلف چہ مگوئیاں ہورہی ہیں۔

ان چہ مگوئیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ شاید ڈاکٹر مالک بلوچ کو توسیع ملے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مری معاہدے کے مطابق چار یا نو دسمبر کے بعد اگلے اڑھائی سال کے لیے وزیراعلیٰ کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو ملنا ہے

سینیئر صحافی چیف خلیل احمد کا کہنا ہے کہ بعض مقتدر حلقے یہ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر مالک کو توسیع ملے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جو قوتیں اقتدار میں شامل ہوتی ہیں ۔ان میں مقتدر قوتیں بھی ہیں ان کا یہ فیصلہ لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر مالک بلوچ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ لہذا حالات یہی بتاتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ تبدیل نہیں ہوں گے۔‘

بعض سیاسی مبصرین کی یہ رائے کہ بلوچستان سے متعلق فیصلوں میں سیکورٹی سے متعلق اداروں کا عمل دخل زیادہ ہے۔

ماضی میں بلوچستان کے قوم پرستوں کے لیے سکیورٹی سے متعلق اداروں میں پذیرائی نہیں رہی۔

ماضی میں اگرچہ بلوچستان میں قوم پرستوں کی حکومتیں بنیں بھی تو وہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکیں لیکن اس کے برعکس ڈاکٹر مالک بلوچ نے نہ صرف اپنی مدت پوری کرلی بلکہ ان کی توسیع کی بھی باتیں ہورہی ہیں۔

ایک اور سینئیر صحافی سید علی شاہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مالک سے سٹیک ہولڈرز مطمئن ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جتنے بھی سٹیک ہولڈرز ہیں وہ ڈاکٹر مالک بلوچ سے مطمئن ہیں۔حالانکہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کوئی بڑا کارنامہ بھی سرانجام نہیں دیا ہے لیکن ان کی کارکردگی گذشتہ حکومت کے مقابلے میں بہتر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈاکٹر مالک بلوچ کا تاثر مثبت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینئیر تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار نے اس کی ایک وجہ ڈاکٹر مالک بلوچ اور اقتدار کے اصل مراکز کے ایک پیج پر ہونے کو قرار دیا

جہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ طاقت کے اصل مراکز کی بھی یہ خواہش ہے کہ ڈاکٹر مالک کو توسیع ملے وہاں بلوچستان سے باہر سے تعلق رکھنے والے بعض صحافی اور ینکر پرسنز بھی ڈاکٹر مالک بلوچ کو توسیع دینے کی وکالت کر رہے ہیں۔

سینئیر تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار نے اس کی ایک وجہ ڈاکٹر مالک بلوچ اور اقتدار کے اصل مراکز کے ایک پیج پر ہونے کو قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جو اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے وہ یہ پوری کر رہے ہیں۔ ایجنڈا آپ دیکھ لیں۔ گوادر پورٹ کو چلانا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کو بہترانداز سے چلانا ۔جب وہ سب پوری کر رہے ہیں تو اس کی کیا ضرورت ہے کسی اور کو لایا جائے۔‘

اگر چہ ڈاکٹر مالک بلوچ کو توسیع ملنے کی باتیں ہورہی ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) بلوچستان اس بات کے لیے تیار نہیں کہ انھیں توسیع دی جائے۔ تاہم وزیر اعلیٰ کے بارے میں فیصلہ اسلام آباد میں ہونا ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے پارٹی کے صوبائی صدر نواب ثناء اللہ زہری کو مشاورت کے لیے اسلام آباد طلب کیا ہے۔

اسی بارے میں