’شہریت کی تصدیق کیے بغیر تارکین وطن کو قبول نہیں کریں گے‘

Image caption حکومت تارکینِ وطن کے معاملے پر یورپی ممالک کے سفیروں سے جنوری میں ملاقات کرے گی: چوہدری نثار

پاکستان کا کہنا ہے کہ حکومت تارکینِ وطن کے معاملے پر یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے حق میں ہے لیکن بے دخل کیے گئے کسی بھی شخص کو بغیر تصدیق کے قبول نہیں کیا جائے۔

اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ یونان سے ڈی پورٹ ہونے والے ان ہی پاکستانیوں کو جہاز سے اترنے کی اجازت دی گئی جن کے پاس پاکستانی شہریت سے متعلق دستاویزات تھیں۔

تاشفین کا سخت گیر مذہبی رجحان ’امریکہ پہنچ کر اہم کام کرنا ہے‘

عمران فاروق قتل کیس: ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر قتل کا مقدمہ

’شہریت پر تنازع، 30 افراد نہ یونان کے نہ پاکستان کے‘

انھوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط سے متعلق یورپی یونین کا بیان حقائق کے منافی ہے۔

چوہدری نثار نے واضح کیا کہ آئندہ بھی بغیر تصدیق کے کسی بھی ڈی پورٹ ہونے والے شخص کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جمعرات کو چارٹرڈ طیارہ 49 افراد کو لے اسلام آباد پہنچا تھا اور پاکستانی حکام نے طیارے میں سوار19 افراد کی پاکستانی ہونے کی تصدیق کے بعد انھیں جہاز سے اترنے کی اجازت دی گئی جبکہ باقی 30 افراد کو واپس یونان بھجوا دیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’وہی ڈی پورٹ ہونے والے افراد پاکستان آئیں گے جن کی تصدیق ہو گی۔ نہیں تو کوئی افغانی، بنگلہ دیشی او دیگر ملکوں کے شہریوں کو پاکستان بھیج دیا جائے، کیسے پتہ چلے گا کہ وہ پاکستانی ہیں۔ پاسپورٹ، شناختی کارڈ، سیٹیزن کارڈ سے انھیں اپنی شہریت ثابت کرنا پڑے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی تاشفین کی زیادہ تر تصاویر جعلی ہیں: وزیر داخلہ

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین نے پاکستان کے تحفظات سے اتفاق کیا ہے اور حکومت سے تارکینِ وطن کے معاملے پر معاہدہ کرنا چاہتی ہے لیکن پاکستان کے عزت و احترام اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

’ہم چاہتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ اچھا سلوک ہو اور ان پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر واپس نہ بھیج دیا۔ یورپی یونین پاکستانیوں کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت تارکینِ وطن کے معاملے پر یورپی ممالک کے سفیروں سے جنوری میں ملاقات کرے گی۔

وزیر داخلہ نے امریکی ریاست کیلفورنیا کے حملے میں خاتون حملہ آور کے بارے میں کہا کہ ’’کسی ایک شخص کی غلط کاری پر پورے ملک یا مذہب کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ تاشفین کا خاندان کئی سال سے سعودی عرب مقیم ہے، شادی کے بعد وہ بھی امریکہ چلی گئیں تھیں اور ’ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی تاشفین کی زیادہ تر تصاویر جعلی ہیں۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ تاشفین ملک کی تفتیش کے بارے میں اگر امریکی حکام نے معاونت کی درخواست کی تو پاکستان قانون کے تحت معلومات امریکہ کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں درج کیا گیا اور اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔قتل کا مقدمہ عدالتی مسئلہ ہے، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، حکومت کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ روز ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی ایف آئی آر، ایف آئی اے کی مدعیت میں درج کی گئی تھی اور اس ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سمیت 7 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں